صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 643 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 643

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۴۳ ۱ ۵ - كتاب الهبة يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ میں میری جان ہے، جو کوئی بھی تم میں سے ( اس زکوۃ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ کے مال سے) کچھ لے گا تو وہ ضرور ہی قیامت کے بَعِيْرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ دن اپنی گردن پر اس ( مال ) کو اٹھائے ہوئے آئے شَاةً تَيْعَرُ - ثُمَّ رَفَعَ بِيَدِهِ حَتَّى رَأَيْنَا گا۔ اگر اونٹ ہوگا تو وہ بڑبڑارہاہوگا یا گائے ہوگی تو عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّعْتُ اللَّهُم وہ بائیں بائیں کر ہی ہوگی، یا بکری ہوگی تو وہ میں هَلْ بَلَّغْتُ ۔ ثَلَاثًا ۔ میں کر رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اُٹھائے، یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سپیدی دیکھ لی۔ آپ نے فرمایا: اے میرے اللہ ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔ اے میرے اللہ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔ یہ فقرہ تین دفعہ فرمایا۔ اطرافه: ۹۲۵، 150۰، 6636، 6979، 7174، 7197۔ تشريح : مَنْ لَّمْ يَقْبَلِ الْهَدِيَّةَ لِعِلَّةٍ : عنوان باب می عمربن عبدالعزیز رحم ال علی کی بہت حوالہ دیا گیا ہے یہ ابن سعد نے بحوالہ فرات بن مسلم نقل کیا ہے کہ ایک دن ان کو سیب کی خواہش ہوئی لیکن گھر میں نقدی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ارادہ ترک کر دیا۔ پھر سوار ہو کر جب باہر گئے تو ایک گرجے کے قریب ان کا گذر ہوا تو ان کو سیب طشتری میں لگے ہوئے پیش کئے گئے۔ ایک سیب لیا اور اسے سونگھا اور پھر طشتری میں اسے رکھ دیا اور سیب نہیں لئے ۔ فرات بن مسلم نے جو ان کے ہمرکاب تھے، تعجب سے دریافت کیا جس پر محولہ بالا جواب دیا گیا لیے آپ کے نیک نمونہ سے ظاہر ہے کہ حکام وقت کو ہدایا قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔ روایت نمبر ۲۵۹۷ سے بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ایسے ہدا یا نا پسند فرمائے ۔ لفظ العِلَّةُ کے معنی ہیں ایسا سبب جس سے نقص لازم آتا ہو۔ باب کی پہلی روایت کا تعلق شرعی حکم کی خلاف ورزی سے ہے۔ دوسری روایت کا تعلق عہدے سے ناجائز فائدہ اُٹھانے سے۔ پہلی روایت کے لیے کتاب جزاء الصيد باب ۶ روایت نمبر ۱۸۲۵ دیکھئے۔ اور دوسری کے لئے کتاب الزکواۃ باب ۶۷ روایت نمبر ۱۵۰۰۔ ابن العربی نے رشوت کی یہ تعریف کی ہے: كُلُّ مَالٍ دُفِعَ لِيُبْتَاعَ بِهِ مِنْ ذِي جَاهِ عَوْنًا عَلَى مَا لَا يَحِلُّ ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه (۲۷) وہ مال جس کے ذریعہ سے ناجائز کو جائز کرنے میں مدد لی جائے۔ ترندی نے اس بارہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو سے آنحضرت ص رت ﷺ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ اللهِ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِی یہ جملہ انشائیہ بھی ۔ انشائیہ بھی ہے اور خبر یہ بھی۔ رسول الله علی نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔ صلى صلى الله ا الطبقات الكبرى لابن سعد، الطبقة الثالثة من أهل المدينة من التابعين، جزء ۵ صفحه ۳۷۷) (سنن الترمذی، کتاب الأحكام، باب ما جاء في الراشي والمرتشي)