صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 643
صحيح البخاری جلدم ۶۴۳ ۵۱ - كتاب الهبة يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ میں میری جان ہے، جو کوئی بھی تم میں سے (اس زکوۃ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ کے مال سے ) کچھ لے گا تو وہ ضرور ہی قیامت کے بَعِيْرًا لَهُ رُغَاء أَوْ بَقَرَةً لَهَا حُوَارٌ أَوْ دن اپنی گردن پر اس ( مال ) کو اٹھائے ہوئے آئے شَاةً تَبْعَرُ - ثُمَّ رَفَعَ بِيَدِهِ حَتَّى رَأَيْنَا گا۔اگر اُونٹ ہوگا تو وہ بڑبڑا رہا ہوگا، یا گائے ہوگی تو ۖ وہ بائیں بائیں کر رہی ہوگی، یا بکری ہوگی تو وہ میں میں کر رہی ہوگی۔پھر آپ نے اپنے ہاتھ اُٹھائے، یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سپیدی دیکھ لی۔(آپ نے فرمایا : اے میرے اللہ ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔اے میرے اللہ ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچادیا ہے۔یہ فقرہ تین دفعہ فرمایا۔عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ - اَللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ۔ثَلَاثًا۔اطرافه: ۹۲۵، ۱۵۰۰، ٦٦٣٦، ۶۹۷۹، ۷۱۷، ۷۱۹۷ تشریح مَنْ لَّمْ يَقْبَلِ الْهَدِيَّةَ لِعِلَّةٍ : عنوانِ باب میں عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت جو والہ دیا گیا ہے یہ ابن سعد نے بحوالہ فرات بن مسلم نقل کیا ہے کہ ایک دن ان کو سیب کی خواہش ہوئی لیکن گھر میں نقدی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ارادہ ترک کر دیا۔پھر سوار ہو کر جب باہر گئے تو ایک گرجے کے قریب ان کا گذر ہوا تو ان کو سیب طشتری میں لگے ہوئے پیش کئے گئے۔ایک سیب لیا اور اسے سونگھا اور پھر طشتری میں اسے رکھ دیا اور سیب نہیں لئے۔فرات بن مسلم نے جو اُن کے ہمرکاب تھے، تعجب سے دریافت کیا جس پر محولہ بالا جواب دیا گیا لیے آپ کے نیک نمونہ سے ظاہر ہے کہ حکام وقت کو ہدایا قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔روایت نمبر ۲۵۹۷ سے بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ایسے ہدایا نا پسند فرمائے۔لفظ العِلَّہ کے معنی ہیں ایسا سبب جس سے نقص لازم آتا ہو۔باب کی پہلی روایت کا تعلق شرعی حکم کی خلاف ورزی سے ہے۔دوسری روایت کا تعلق عہدے سے ناجائز فائدہ اُٹھانے سے۔پہلی روایت کے لیے کتاب جزاء الصيد باب ۶ روایت نمبر ۱۸۲۵دیکھئے۔اور دوسری کے لئے کتاب الزکواۃ باب ۶۷ روایت نمبر ۱۵۰۰۔ابن العربی نے رشوت کی یہ تعریف کی ہے: كُلُّ مَالِ دُفعَ لِيُبْتَاعَ بِهِ مِنْ ذِي جَاءٍ عَوْنًا عَلَى مَا لا يَحِلُّ۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۷۱) وہ مال جس کے ذریعہ سے ناجائز کو جائز کرنے میں مدد لی جائے۔ترندی نے اس بارہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ڈ سے آنحضرت میﷺ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل کیا ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ عَ الرَّاشِى وَالْمُرْتَشِی یہ جملہ انشائیہ بھی ہے اور خبر یہ بھی۔رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔الطبقات الكبرى لابن سعد، الطبقة الثالثة من أهل المدينة من التابعين، جز ۵۶ صفحه ۳۷۷) (سنن الترمذی، كتاب الأحكام، باب ما جاء فى الراشي والمرتشي) الله