صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 642
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۴۲ ۱ ۵ - كتاب الهبة عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ نے کہا : عبید اللہ بن عبداللہ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَنَّامَةَ کہ انہوں نے حضرت صعب ابن جنامہ لیٹی سے سنا۔ وہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، بتلاتے تھے کہ اللَّيْثِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گورخر ہدیہ يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ پیش کیا اور آپ اس وقت ابواء یا وڈان میں تھے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشِ وَهُوَ احرام باندھے ہوئے تھے۔ آپ نے اسے لوٹا دیا۔ بِالْأَبْوَاءِ - أَوْ بِوَدَانَ - وَهُوَ مُحْرِمٌ حضرت صعب کہتے تھے : جب آپ نے میرے چہرے فَرَدَّهُ قَالَ صَعْبٌ : فَلَمَّا عَرَفَ فِي سے معلوم کیا کہ میں نے آپ کے ہدیہ قبول نہ کرنے کو محسوس کیا ہے تو آپ نے فرمایا: یہ بات نہیں کہ ہم وَجْهِي رَدَّهُ هَدِيَّتِي قَالَ: لَيْسَ بِنَا رَدُّ تمہارا ہدیہ واپس کر رہے ہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ ہم عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ ۔ اطرافه: ١٨٢٥، ٢٥٧٣۔ احرام میں ہیں۔ ٢٥٩٧ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۵۹۷ : عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ سفیان مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ زہری نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت ابوحمید السَّاعِدِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ساعدی اللہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ نے قبیلہ ازد میں سے ایک شخص کو جسے ابن ابی رَجُلًا مِّنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللَّنْبِيَّةِ کہتے تھے، زکوۃ وصول کرنے پر ( کارکن ) مقرر فرمایا۔ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : هَذَا لَكُمْ جب وہ آیا تو اس نے کہا: یہ تو آپ کا ہے اور یہ مجھے تحفہ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي۔ قَالَ : فَهَلَّا جَلَسَ فِي دیا گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: تو پھر وہ اپنے باپ کے گھر بَيْتِ أَبِيْهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهِ - فَيَنْظُرَ یا اپنی ماں کے گھر ہی کیوں نہ بیٹھا رہا اور پھر دیکھتا اسے أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں " ابنُ الأَنبيَّةِ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ (۲۷)