صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 634
صحيح البخاري - جلد ۴ الله ۱ ۵ - كتاب الهبة قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ حسین نے عامر (شعبی ) سے روایت کی کہ انہوں نے اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ : کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ سنا اور وہ منبر پر تھے، کہتے تھے: میرے باپ نے ایک رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهدَ عطیہ مجھے دیا تو عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ ﷺ کو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گواہ نہ ٹھہراؤ۔ اس پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بنت رواحہ سے ہے، ایک عطیہ دیا ہے اور اس نے مجھ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ سے کہا ہے کہ میں آپ کو یا رسول اللہ گواہ ٹھہراؤں ۔ أُشْهِدَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ۔ قَالَ : أَعْطَيْتَ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے باقی تمام بیٹوں کو اسی سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : طرح دیا ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: فَاتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ اللہ کی ناراضگی سے بچو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ انہوں نے کہا: اس پر وہ لوٹ آئے اور قَالَ : فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ۔ اطرافه: ٢٥٨٦، ٢٦٥٠۔ انہوں نے اپنا عطیہ واپس لے لیا۔ تشريح : الأَشْهَادُ فِي الْهِبَةِ: بہ بھی اگر چینل دیگر عقد کے محتاج ہے محتاج شہادت عقد ہے لیکن ہے لیکن یہ امر صحت ہبہ کے لئے شرط نہیں بلکہ تکمیل عقد کی صورت ہے۔ واہب کی طرف سے اعلان ہی کافی ہے کہ اس نے فلاں کو فلاں چیز ہبہ ہبہ کر دی ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک موہوب چیز پر قبضہ بھی شرط نہیں بلکہ یہ ہبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ ان کے نزدیک صرف اعلان سے ہی ہبہ صیح قرار پا جائے گا۔ (بداية المجتهد، کتاب الهبات، شروطها، جزء ثانی صفحه ۲۴۷، ۲۴۸) فقہاء نے مذکورہ بالا واقعہ سے دونوں قسم کی رائے کا استدلال کیا ہے: وجوب شہادت کا بھی اور عدم وجوب شہادت کا بھی ۔ جنہوں نے شہادت واجب قرار دی ہے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کو اس امر پر محمول کیا ہے کہ چونکہ ہبہ میں غیر منصفانہ طریق اختیار کیا گیا تھا ؟ آپ نے ایسے نا جائز ہبہ پر گواہ ہونا پسند نہیں کیا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ امام تھے اس لئے امام کا شاہد ٹھہر نام امام کا شاہد ٹھہرنا منصب امامت کے خلاف ہے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا: أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبَرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءٌ؟ قَالَ: نَعَمُ۔ قَالَ : فَأَشْهِدُ عَلَى هَذَا غَيْرِى۔ (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في الرجل يفضل بعض ولده فی النحل) کیا تمہیں پسند ہے کہ تمام