صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 633
صحيح البخاري - جلدم ۶۳۳ ۱ ۵ - كتاب الهبة يَتَعَدَّى؟ وَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى الله مال سے دستور کے مطابق کھائے اور حد سے تجاوز نہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمَرَ بَعِيْرًا ثُمَّ أَعْطَاهُ کرے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے ابْنَ عُمَرَ وَقَالَ : اصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ۔ایک اونٹ خریدا۔پھر آپ نے وہ حضرت ابن عمرؓ کو دے دیا اور آپ نے فرمایا: تم اس سے جو چاہو، کرو۔٢٥٨٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۲۵۸۶: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن اور محمد بن نعمان ابْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ بن بشیر سے روایت کی کہ ان دونوں نے نعمان بن بشیر سے روایت کی کہ ان کے باپ رسول اللہ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ : أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کو لائے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے۔آپ نے فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا۔فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ؟ قَالَ: جیسے اس کو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔تو آپ نے فرمایا: لا۔قَالَ : فَارْجِعْهُ۔اطرافة: ٢٥٨٧، ٢٦٥٠ ریح: اس کو واپس لے لو۔اَلْهِبَةُ لِلْوَلَدِ : عنوانِ باب میں تین حوالے ہیں۔اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اِعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ۔اس حوالہ کے لئے روایت نمبر ۲۵۸۷ زیر باب ۱۳ د یکھئے۔دوسرے حوالہ کا تعلق ایک فقہی اختلاف سے ہے جو روایت اَنتَ وَمَالَكَ لا بیک کی بناء پر کیا گیا ہے کہ آیا کوئی اپنے بیٹے کو ہبہ کر کے اس وجہ سے اسے کو ٹا سکتا ہے کہ بیٹا اور اس کا مال باپ ہی کا ہے۔یہ روایت کمزور ہے اور اس سے فقہی استدلال بھی کمزور ہے۔تیسرا حوالہ رسول اللہ ﷺ کا حضرت عمر سے اونٹ خریدنے کے متعلق ہے۔اس واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۲۶۱۰۔بَابِ ۱۳ : الْإِشْهَادُ فِي الْهَبَةِ ہبہ میں گواہ ٹھہرانا ٢٥٨٧: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ۲۵۸۷: حامد بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنِ عَنْ عَامِرٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن ) سے، ابن ماجه المقدمة، باب ما للرجل من مال ولده