صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 632 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 632

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۳۲ ۱ ۵ - كتاب الهبة مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا ( النساء: ۸۷) جب تمہیں دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی دعا د و یا کم از کم ویسی ہی دو۔ اللہ یقیناً ہر امر کا حساب لینے والا ہے۔ لفظ تحية حياة سے مشتق ہے۔ تحیہ وہ دعائیہ الفاظ ہیں جن سے ایک بادشاہ مخاطب کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ تحفہ تحائف پر بھی اطلاق پاتا ہے کہ اس سے نیک تعلقات زندہ رہتے ہیں۔ رُدُّوھا کے معنے ہیں ویسا ہی تحفہ دو۔ یہ مراد نہیں کہ تحفہ واپس کر دو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدیہ رڈ کرنا مکروہ قرار دیا ہے ۔ ( باب ۶ روایت نمبر ۲۵۷۳) بلکہ قرآن مجید نے تو روی چیز کا ہدیہ قبول کرنا بھی عمدہ اخلاق میں شمار کیا ہے۔ فرماتا ہے: وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِاخِذِيْهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (البقرہ : ۲۶۸) اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے وقت اس میں سے ایسی ناپاک چیز کا قصد نہ کیا کرو کہ تم اسے ہرگز قبول کرنے والے نہ ہو سوائے اس کے کہ تم (سبکی کے خیال سے ) اس سے صرف نظر کرو۔ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ( اور ) بہت قابل تعریف ہے ۔ } اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۱۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔ لَمْ يَذْكُرُ وَكِيعٌ وَ مُحَاضِرٌ عَنْ هِشَامٍ ۔۔۔۔ اس جملہ سے اشارہ کیا ہے کہ یہی روایت وکیع ومحاضر سے بھی بسند ہشام موصولاً نقل کی ہے، جو درست نہیں۔ بلکہ صرف عیسی بن یونس بواسطہ ہشام اسے موصولاً نقل کیا ہے۔ جیسا کہ ترمذی اور بزار نے اس کی وضاحت کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۵۹) بَاب ۱۲ : الْهِبَةُ لِلْوَلَدِ اپنی اولاد کو ہبہ کرنے کا بیان وَإِذَا أَعْطَى بَعْضَ وَلَدِهِ شَيْئًا لَمْ يَجُز نیز اگر کوئی شخص اپنے بیٹوں میں سے کسی کو کچھ دے تو حَتَّى يَعْدِلَ بَيْنَهُمْ وَيُعْطَيِ الْآخَرُ مِثْلَهُ یہ جائز نہیں، تا وقتیکہ سب اولاد کے درمیان انصاف وَلَا يُشْهَدُ عَلَيْهِ ۔ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نہ کرے اور دوسروں کو بھی ویسا نہ دے اور ایسے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي غیر منصفانہ ہدیئے پر گواہ ہونا بھی درست نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی اولاد کے درمیان الْعَطِيَّةِ۔ عطیہ کے معاملے میں عدل کیا کرو۔ وَهَلْ لِلْوَالِدِ أَنْ يَرْجِعَ فِي عَطِيَّتِهِ؟ وَمَا نیز اس بات کا بیان کہ کیا والد کو حق ہے کہ اپنے بچوں يَأْكُلُ مِنْ مَّالِ وَلَدِهِ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَا کو عطیہ دے کر پھر رجوع کرے، اور جو اپنی اولاد کے حمد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ "يُعْطِيَ الْآخَرِينَ" کے الفاظ ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۲۶۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے