صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 39 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 39

صحيح البخاری جلد ۴ وم ۳۴- كتاب البيوع قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تک پہنچائی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ہے بیچنے والا اور خرید نے والا دونوں (بیع فسخ کر دینے أَوْ قَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا کا اختیار رکھتے ہیں ، جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔یا فرمایا: اس وقت تک کہ وہ جدا ہو جائیں۔اگر اُن بُوْرِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا دونوں نے سچائی سے کام لیا اور صاف صاف بات کی وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا۔تو دونوں کی خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی۔اور اگر اُن دونوں نے چھپایا ہو اور جھوٹ بولا ہو تو اطرافه: ۲۰۸۲، ۲۱۰۸، ۲۱۱۰، ۲۱۱۴ اُن کی خرید و فروخت کی برکت مٹا دی جائے گی۔ریح: إِذَا بَيَّنَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ يَكْتُمَا وَنَصَحَا فقہاء نے عقد بیع کی صحت اور وجوب شرعی کے لئے پانچ شرطیں تجویز کی ہیں: (۱) ملکیت اور قدرت و تصرف۔(۲) صلاحیت۔(۳) نفع مندی۔(۴) تعیین یعنی قابل فروخت اشیاء کے وزن و نرخ اور اپنی صفت میں معین اور واضح ہوں۔(۵) قبضہ تام اور بائع و مشتری کا ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جانا۔عنوانِ باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے وہ جوامع الکلم میں سے ہے۔یعنی تاجر اور خریدار کو بوقت خرید و فروخت وضاحت اور صراحت یعنی صاف گوئی اور سچائی سے کام لینا چاہیے اور ایک دوسرے کی خیر خواہی اُن کے مد نظر ہو۔اگر ایسا کریں گے تو بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، ان دونوں کو خرید وفروخت میں برکت ہوگی۔اگر کذب و اخفاء سے کام لیا گیا تو برکت منادی جائے گی۔کیسی جامع اور مبارک ہدایت ہے، جس میں مذکورہ بالا پانچ شرطیں شامل ہیں۔ایک تاجر جو صرف اپنے نفع دو آنے فی روپیہ پر ہی نظر رکھتا ہے اور کوشش نہیں کرتا کہ عمدہ سے عمدہ شئے مہیا کرے اور جہاں مطلوبہ شئے وافر اور کم نرخ پر مہیا ہوتی ہو ، وہاں سے اچھی چیز حاصل نہ کرے تو ایسا تاجر اپنے گاہکوں کا خیر خواہ نہیں۔اگر وہ فروختنی اشیاء کے نقص کو چھپاتا ہے، بجائے اچھی چیز کے بُری چیز دیتا ہے تو وہ دعا وفریب کرتا ہے۔ایک قصاب یا ایندھن بیچنے والا جو اپنے سودے کی قیمت تو پوری لیتا ہے مگر رڈی گوشت یا خراب ایندھن دیتا ہے تو یہ دونوں خیر خواہ نہیں بلکہ دعا و فریب کے مرتکب ہیں۔اسی طرح گا ہک بھی اگر وہ مناسب نرخ سے کم دینے کی کوشش کرتا ہے یا اُدھار لے کر وقت مقررہ پر ادا نہیں کرتا تو یہ بھی دعا کا مرتکب ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حولہ بالا ارشاد تجارتی کاروبار کی صلاحیت، ترقی اور بائع ومشتری کے تعلقات کی خوشگواری اور منڈیوں کے نرخ کی استواری قائم رکھنے میں ایک سنہری اصول ہے۔هَذَا مَا اشْتَرَى مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ الله عنوان باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بیع نامہ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو قیمتی مرقع یاد گار ہے۔یہ تحریری معاہدہ جس کی پیروی بیچ وشراء کی تحریرات میں