صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 38
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۸ ۳۴- كتاب البيوع بَاب ۱۹ : إِذَا بَيَّنَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ يَكْتُمَا وَنَصَحَا جب بائع اور مشتری کھول کر بات بیان کر دیں اور کچھ پوشیدہ نہ رکھیں اور خیر خواہی کریں وَيُذْكَرُ عَنِ الْعَذَاءِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: اور حضرت عداء بن خالد سے مذکور ہے کہ انہوں نے کہا: كَتَبَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: في صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک بیع نامہ کے متعلق یہ ) هَذَا مَا اشْتَرَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ تحریر لکھ کردی یہ ہ ہے جو مدرسول اللہ صل للہ علیہ وسلم نے عداء بن خالد سے خریدا ہے۔ یہ خرید و فروخت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَذَاءِ بْنِ ایک مسلمان کی مسلمان کے ساتھ ہے۔ نہ اس میں خَالِدٍ بَيْعَ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمُسْلِمِ لَا دَاءَ کوئی بیماری ہے اور نہ کوئی نقص ۔ نہ (اس میں ) کوئی وَلَا خِبْتَةَ وَلَا غَائِلَةَ۔ قَالَ قَتَادَةُ: دعا فریب اور قتادہ نے کہا: غائلة کے معنے ہیں زنا، الْغَائِلَةُ الزِّنَا وَالسَّرِقَةُ وَالْإِبَاقُ وَقِيلَ چوری اور بھگوڑا اپن۔ اور ابراہیم (شخصی) سے کہا گیا کہ بعض مویشی اور غلام بیچنے والے طویلوں کا نام لِإِبْرَاهِيمَ: إِنَّ بَعْضَ النَّخَاسِيْنَ يُسَمِّي خراسان اور سجستان رکھتے ہیں۔ تو کوئی کہتا ہے: آرِيَّ خُرَاسَانَ وَسِجِسْتَانَ فَيَقُولُ: خراسان سے کل ہی آیا ہے۔ سجستان سے آج ہی آیا جَاءَ أَمْسِ مِنْ خُرَاسَانَ وَجَاءَ الْيَوْمَ ہے تو (ابراہیم نخعی ) نے اسے نہایت ہی مکر وہ سمجھا۔ مِنْ سِجِسْتَانَ فَكَرِهَهُ كَرَاهَةً شَدِيْدَةً اور حضرت عقبہ بن عامرؓ نے کہا: کسی شخص کے لئے یہ وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : لَا يَحِلُّ لِامْرِي جائز نہیں کہ کوئی ایسی چیز بیچے، جس کے متعلق وہ يَبِيعُ سِلْعَةً يَعْلَمُ أَنَّ بِهَا دَاءً إِلَّا أَخْبَرَهُ۔ جانتا ہے کہ اس میں بیماری ہے، سوائے اس کے کہ وہ اُس کو خبر دے۔ ۲۰۱ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۲۰۷۹ : سلیمان بن حرب بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے صالح الْخَلِيْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَفَعَهُ ابو اکلیل سے، صالح نے عبداللہ بن حارث سے روایت إِلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کی ۔ انہوں نے یہ روایت حضرت ت حکیم ابن حزام رضي عنه کرد طویلہ: چوپایوں خصوصاً گھوڑوں کے باندھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اصطبل بھی مراد ہے۔ نیز اس لمبی رسی کو بھی کہتے ہیں جو جانوروں (عموماً گھوڑوں کے پیروں ) سے باندھ کر چونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ (اردو لغت - طویلہ )