صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 40
صحيح البخاری جلد ۳۴- كتاب البيو لازمی اور ضروری ہے۔اس تحریر کو آپ نے اول مسلم کا بیج نامہ قرار دیا ہے۔دوم اس میں مشتری اور بائع کا نام ہے۔سوم اس میں پوری صراحت ہے۔(لَا دَاءَ) یعنی اس میں کوئی جسمانی بیماری یا عیب نہیں۔(وَلَا خِبْئَةَ) یعنی اس کے عادات واطوار میں کوئی نقص نہیں۔(وَلَا عَائِلَة) اور اس میں کسی قسم کا دھوکہ فریب نہیں۔مذکورہ بالا روایت علاوہ تر مندگی کے کئی اور محد ثین نسائی، ابن ماجد وغیرہ نے بھی نقل کی ہے اور اس کی صحت پر سب کا اتفاق ہے کہ اس وثیقہ میں بائع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشتری حضرت عداء بن خالد بن ہو گا ہیں جو اہل بادیہ میں سے تھے اور غزوہ حنین کے بعد ایمان لائے تھے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۳۹۲) امام بخاری کی روایت زیر تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطور مشتری اور حضرت ابن خالد بائع بتائے گئے ہیں۔شارحین نے اس اشتباہ کا ازالہ کیا ہے کہ لفظ اِشْتَرَى اور بَاعَ ہم معنی اور متبادل لفظ ہیں۔یعنی اِشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا اَوْ آمَةً کے معنے خریدا یا بیچا، دونوں ہیں۔(فتح الباری جز ۴ صفحہ ۳۹۲) (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۱۹۲) ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے غلام یا لونڈی کی خرید و فروخت در اصل نہیں کی بلکہ حضرت ابن خالد کو بیع نامہ کی صورت بتائی ہے۔کیونکہ جملہ عبدًا اَوْ آمَةً سے عنوانِ باب کا مفہوم مشتبہ ہو جاتا ہے؛ بحالیکہ اصل موضوع یہ ہے کہ بیچ وشراء میں وضاحت اور تعیین ہونی چاہیے۔قَالَ قَتَادَةُ : یہ حوالہ ابن مندہ نے بسند اصمعی موصولاً نقل کیا ہے۔لفظ عَائِلہ کی تشریح سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ بازاری عورت نہ ہو جو کسی کی ملکیت میں نہیں۔بلکہ متاع عام ہے۔چوری کا مال نہ ہو۔لفظ غَائِلَةَ ہر قسم کے دعا و فریب پر مشتمل ہے۔وَقِيلَ لِإِبْرَاهِيم: ابن ابی شیبہ نے اپنی محولہ روایت میں وضاحت سے نقل کیا ہے کہ ابراہیم مخفی سے کہا گیا کہ اصطبلوں پر خراسان اور بجستان کے نام لکھ کر دھوکہ دیا جاتا ہے کہ فلاں اصطبل میں گھوڑے اصیل ہیں اور فلاں شہر کے ہیں ہے اس روایت میں لفظ آرتی کی جگہ لفظ اصطبل ہے۔ابن سکیت لغوی نے لفظ ارنی اور آخی کے معنے ایک ہی بتائے ہیں یعنی بندھن۔اس کی جمع آواری اور اواخی ہے۔اور عام بول چال میں اِس سے مراد باندھنے کی جگہ ہوتی ہے۔النخاس کے معنے ہیں مویشیوں کا دلال۔(عمدۃ القاری جزء اصفحه ۱۹۴۱۹۳) مذکورہ بالا روایت میں دعا وفریب کی جو صورت و شکل بیان ہوئی ہے، ہمارے ملک میں اس کا عام رواج ہے۔دیسی مصنوعات پر ولایتی مارکہ یعنی نشان ظاہر کر کے مشتری کو دھوکا دیا جاتا ہے کہ یہ اعلیٰ ساخت کی چیز ہے۔ایسی خرید و فروخت بَيْعُ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمُسْلِمِ کی مصداق نہیں۔اسی لئے منڈیوں کی برکت اُٹھ گئی ہے اور ہماری تجارت کی کوئی ساکھ نہیں۔وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ۔۔۔۔به قول امام احمد بن حنبل ، ابن ماجہ اور حاکم نے عبدالرحمن بن شماسہ کی سند سے یہ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء في كتابة الشروط) ابن ماجه، کتاب التجارات، باب شراء الرقيق) (مصنف ابن ابی شیبه کتاب البیوع باب فى الرجل يكون له الأصطبل فيسميه باسم، جزء ۵ صفحه ۱۹)