صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 40 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 40

صحيح البخاري - جلد ۴ م ۳۴- كتاب البيوع لازمی اور ضروری ہے۔ اس تحریر کو آپ نے اول مسلم کا بیع نامہ قرار دیا ہے۔ دوم اس میں مشتری اور بائع کا نام ہے۔ سوم اس میں پوری صراحت ہے۔ (لَا دَاءَ) یعنی اس میں کوئی جسمانی بیماری یا عیب نہیں۔ (وَلَا خِبْئَةَ) یعنی اس کے عادات واطوار میں کوئی نقص نہیں ۔ نقص نہیں ۔ (وَلَا غَائِلَةَ) اور اس میں کسی قسم کا دھوکہ فریب نہیں ۔ مذکورہ بالا روایت علاوہ ترندی کے کئی اور محدثین نسائی، ابن ماجہ وغیرہ نے بھی نقل کی ہے اور اس کی صحت پر سب کا اتفاق ہے کہ اس وثیقہ میں بائع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشتری حضرت عداء بن خالد بن ہودہ ہیں جو اہل بادیہ میں سے تھے اور غزوہ حنین کے بعد ایمان لائے تھے ۔ ( فتح الباری جز ۴ صفحہ۳۹۲) امام بخاری کی روایت زیر تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطور مشتری اور حضرت ابن خالد بائع بتائے گئے ہیں۔ شارحین نے اس اشتباہ کا ازالہ کیا ہے کہ لفظ اِشْتَرَی اور باغ ہم معنی اور متبادل لفظ ہیں ۔ یعنی اِشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ آمَةً کے معنے خریدا یا بیچا، دونوں ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴۶ صفحه ۳۹۲) (عمدۃ القاری جزء ا اصفحہ ۱۹۲) ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے غلام یا لونڈی کی خرید و فروخت در اصل نہیں کی بلکہ حضرت ابن خالد کو بیع نامہ کی صورت بتائی ہے۔ کیونکہ جملہ عبدًا اَوْ اَمَةً سے عنوانِ باب کا مفہوم مشتبہ ہو جاتا ہے؛ بحالیکہ اصل موضوع یہ ہے کہ بیع وشراء میں وضاحت اور تعیین ہونی چاہیے۔ قَالَ قَتَادَةُ ۔۔۔۔۔۔ یہ حوالہ ابن مندہ نے بسند اصمعی موصولاً نقل کیا ہے۔ لفظ عائلة کی تشریح سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ بازاری عورت نہ ہو جو کسی کی ملکیت میں نہیں ۔ بلکہ متاع عام ہے۔ چوری کا مال نہ ہو۔ لفظ غَائِلَةَ ہر قسم کے دغا و فریب پر مشتمل ہے۔ وَقِيلَ لِإِبْرَاهِيم ۔۔۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی محولہ روایت میں وضاحت سے نقل کیا ہے کہ ابراہیم مخفی سے کہا گیا کہ اصطبلوں پر خراسان اور سجستان کے نام لکھ کر دھو کہ دیا جاتا ہے کہ فلاں اصطبل میں گھوڑے اصیل ہیں اور فلاں شہر کے ہیں ۔ کے اس روایت میں لفظ آدمی کی جگہ لفظ اصطبل ہے۔ ابن سکیت لغوی نے لفظ آری اور اخی کے معنے ایک ہی بتائے ہیں یعنی بندھن۔ اس کی جمع اوادی اور اواخی ہے۔ اور عام بول چال میں اس سے مراد باندھنے کی جگہ ہوتی ہے۔ النخاس کے معنے ہیں مویشیوں کا دلال۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۹۴۱۹۳) مذکورہ بالا روایت میں دغاو فریب کی جو صورت و ، وشکل بیان ہوئی ہے، ہمارے ملک میں اس کا عام رواج ہے ۔ دیسی مصنوعات پر ولایتی مارکہ یعنی نشان ظاہر کر کے مشتری کو دھوکا دیا جاتا ہے کہ یہ اعلیٰ ساخت کی چیز ہے۔ ایسی خرید و فروخت بَیعُ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمُسْلِمِ کی مصداق نہیں ۔ اسی لئے منڈیوں کی برکت اُٹھ گئی ہے اور ہماری تجارت کی کوئی ساکھ نہیں۔ وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِر ۔۔۔۔۔ به قول امام احمد بن حنبل ، ابن ماجہ اور حاکم نے عبدالرحمن بن شماسہ کی سند سے (ترمذی، كتاب البيوع، باب ماجاء في كتابة الشروط) ابن ماجه، كتاب التجارات، باب شراء الرقيق (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع، باب في الرجل يكون له الأصطبل فيسميه باسم، جز ۵۰ صفحه ۱۹)