صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 631 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 631

صحيح البخاری جلدم ۶۳۱ ۱ ۵ - كتاب الهبة أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا۔فَقَالَ النَّاسُ : اور جو اپنا حق (غلام کا فدیہ ) لینا چاہے تو اس کا حصہ طَيِّبُنَا لَكَ۔ہم اس پہلی غنیمت سے دیں گے جو اللہ ہمیں دے گا۔لوگوں نے کہا : ہم نے آپ کا ارشاد خوشی سے قبول کیا۔اطرافه : ۲۳۰۷ - ۲۳۰۸، ٢٥۳۹-٢٥٤٠، ٢٦٠٧ - ٢٦٠٨، ٣١٣١ - 313٢، 4318-4319، ٧١٧٦-٧١٧٧۔شريح : مَنْ رَّاى الْهِبَةَ الْغَائِبَةَ جَائِزَةً: قبیلہ ہوازن کے جنگی قیدیوں اور اموال غنیمت کی واپسی کا واقعہ كتاب الوكالة بابے روایت نمبر ۲۳۰۷-۲۳۰۸ میں دیکھئے۔امام بخاری نے اموال غنیمت کی مشار الیہ واپسی بھی ہیہ میں شمار کی ہے اور اس کا نام ہبہ غائب رکھا ہے کیونکہ اموال غنیمت میں جو قیدی انہیں حاصل ہوئے تھے قبل اس کے کہ وہ تقسیم کئے جاتے ان کا حق انہوں نے ترک کر دیا۔گویا وہ اموال غائب کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کا ان کو نہ لینا ایک ہبہ کا رنگ تھا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۵۹،۲۵۸) بَاب ۱۱ : الْمُكَافَأَةُ فِي الْهِبَةِ ہیہ کا معاوضہ ٢٥٨٥ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۵۸۵ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ عیسی بن عِيْسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثيبُ عَلَيْهَا۔لَمْ يَذْكُرْ اور خود بھی ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔وکیع (ابن جراح) وَكِيعٌ وَمُحَاضِرٌ : عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ اور محاضر (بن مورع ) نے اپنی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ روایت ہشام سے، ہشام نے اپنے عَنْ عَائِشَةَ۔باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ہو تشریح : المُكَافَاءَ ة في الهبة: میں تحریف کیا گیاہے کہ والی و با اما و اگر ما مد نظر و تو وہ ہبہ نہیں۔عنوانِ باب میں ہبہ عام معنوں میں استعمال ہوا ہے جو ہدایا وتحالف پر بھی اطلاق پاتا ہے گو ہدیہ دینے والے کی نیت حصول معاوضہ نہ ہو۔اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس بارہ میں یہی تھا کہ آپ مناسب موقع محل پر اس کا معاوضہ ضرور دیا کرتے تھے۔قرآن مجید بھی یہی فرماتا ہے: وَإِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَبُّوْا بِأَحْسَنَ