صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 630
صحيح البخاری جلدم ۶۳۰ ۱ ۵ - كتاب الهبة ہے۔خوشبو کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ کی مرفوع روایت بھی ہے جو ابوداؤد اور نسائی نے نقل کی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں : مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيْبٌ فَلَا يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ طَيْبُ الرِّيحِ خَفِيفُ الْمَحْمَل یا جسے خوشبو پیش کی جائے۔وہ اسے نہ لوٹائے کیونکہ خوشبو عمدہ ہے، وزن میں ہلکی ہے۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خوشبو کے بارے میں یہی روایت نقل کی ہے مگر اس میں بجائے طیب کے لفظ ریحان ہے۔یے لیکن لفظ طیب روایت کرنے والے زیادہ ہیں۔اس لئے یہی لفظ صحت کے زیادہ قریب ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۵۸) در حقیقت مجلس میں بیٹھنے کے لئے گاؤ تکیہ یا نمدہ اور بیٹھنے کی شئے اگر دی جائے ، اسی طرح خوشبو وغیرہ جو از راہِ خاطر و تواضع اور ملاطفت و موانست پیش کی جاتی ہیں، اُن کا رڈ کرنا مناسب نہیں۔باب ۱۰: مَنْ رَّأَى الْهَبَةَ الْغَائِبَةَ جَائِزَةً جس نے غیر موجود چیز کا ہبہ کرنا جائز سمجھا ٢٥٨٣ - ٢٥٨٤ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ ۲۵۸۳-۲۵۸۴ : سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ: کہ لیٹ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا بخلقیل حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی ذَكَرَ عُرْوَةُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ کہ انہوں نے کہا: عروہ نے بیان کیا کہ مسور بن مخرمہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رضى اللہ عنہما اور مروان نے انہیں خبر دی کہ جب نبی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ جَاءَهُ صلى الله علیہ وسلم کے پاس ہوازن کے نمائندے آئے وَفِّدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِن تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر آپ نے فرمایا: إِخْوَانَكُمْ جَاءُوْنَا تَائِبِيْنَ وَإِنِّي رَأَيْتُ دیکھو تمہارے بھائی ہمارے پاس تو بہ کر کے آئے ہیں أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ اور میں نے مناسب خیال کیا کہ اُن کے قیدی انہیں أَنْ تُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ واپس کردوں۔اس لئے جو تم میں سے اپنے دل کی يَكُوْنَ عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ خوشی سے ایسا کرنا چاہتا ہو چاہیے کہ وہ واپس کر دے (نسائی، کتاب الزينة باب الطيب) (ابوداؤد، كتاب الترجل، باب في ردّ الطيب) (مسلم، كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها، باب استعمال المسك