صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 628
صحيح البخاری جلدم ۶۲۸ ۱ ۵ - كتاب الهبة قَالَ الْبُخَارِيُّ: الْكَلَامُ الْأَخِيْرُ قِصَّةُ بخاری نے کہا: یہ آخری بات یعنی حضرت فاطمہ کا فَاطِمَةَ يُذْكَرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ واقعہ ہشام بن عروہ سے بیان کیا جاتا ہے۔ہشام نے ایک شخص سے، اس نے زہری سے، زہری نے رَجُلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُّحَمَّدِ بْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔وَقَالَ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ محمد بن عبدالرحمن سے روایت کی اور ابومروان نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے روایت کرتے ہوئے هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ: كَانَ النَّاسُ بیان کیا۔لوگ ہدیئے دینے کے لئے حضرت عائشہ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ۔کی باری کو زیادہ مناسب سمجھا کرتے تھے۔{وَعَنْ هِشَامٍ} عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ اور ہشام سے بھی مروی ہے۔ہم وہ ایک قریشی وَرَجُلٍ مِنَ الْمَوَالِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ شخص سے اور ایک آزاد کردہ غلام سے بھی روایت مُحَمَّدِ بْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ کرتے تھے۔ان دونوں نے زہری سے، زہری نے ابْنِ هِشَامٍ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے روایت کی عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ که حضرت عائشہ کہتی تھیں : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی کہ فاطمہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔فَاسْتَأْذَنَتْ فَاطِمَةُ۔اطرافه: ٢٥٧٤، ٢٥٨٠، ٣٧٧٥۔تشریح : مَنْ أَهْدَى إِلَى صَاحِبِهِ وَتَحَرَّى بَعْضَ نِسَآئِهِ دُونَ بَعْضٍ : امام ابن حجر نے ای باب کی تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم سے متعلق ایک لطیف تبصرہ کیا ہے کہ اخلاق فاضلہ ہدایا وغیرہ بھجوانے کے متعلق کسی کو ہدایات دینے میں مانع ہیں۔اگر حضور صحابہ سے یہ فرماتے کہ ایک بیوی کی باری تخصیص نہ کی جائے جس بیوی کے ہاں حضور تشریف فرما ہوں وہاں ہدیہ بھیج دیا جائے تو اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ بھیجے جانے کا اشارہ ہوتا۔اس لئے حضور نے اسے بھی گوارا نہ فرمایا اور خاموشی اختیار کی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۵۶) ہدیہ دینے یا نہ دینے میں ہر شخص آزاد ہے، جسے چاہے دے یا نہ دے۔ایسی باتوں میں مداخلت یا فرمائش نزاہت نفس اور خلق عظیم کے منافی ہے۔عورتوں کو عدل کے بارے میں بھی غلط نہی تھی۔عدل کا تعلق خاوند کی ذات سے ہے نہ دوسرے لوگوں کی مرضی سے۔اس کے علاوہ اکل وشرب اور مسکن و ماوی کا جو تعلق ہے اس میں شریعت نے مرد کو پابند کیا ہے کہ ایک سے زیادہ الفاظ " وَعَنْ هِشَام فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جز ۵۶ حاشیہ صفحہ۲۵۴) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔