صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 627
صحيح البخاری جلدم ۶۲۷ ۱ ۵ - كتاب الهبة أَتُوْبُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ تکلیف دینے سے اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں۔پھر اس ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ کے بعد ان ازواج نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فاطمہ کو بلایا اور سول اللہ ﷺ کے پاس انہیں بھیجا کہ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ آپ سے کہیں کہ آپ کی ازواج حضرت ابوبکر کی بیٹی سے متعلق انصاف کرنے کے لئے آپ کو (اللہ کی) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُوْلُ: إِنَّ نِسَاءَكَ قسم دیتی ہیں۔چنانچہ حضرت فاطمہ نے آپ سے کہا۔يَنْشُدُنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ آپ نے فرمایا: اے میری بیٹی ! کیا تم وہ بات پسند نہیں فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ يَا بُنَيَّة بُنَيَّةُ أَلا کرتی جو میں پسند کرتا ہوں؟ (حضرت فاطمہ نے ) کہا : تُحِبَيْنَ مَا أُحِبُّ؟ قَالَتْ: بَلَى کیوں نہیں اور وہ ازواج کے پاس لوٹ آئیں اور فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ فَقُلْنَ انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: تم آنحضرت کے پاس پھر ارْجِعِي إِلَيْهِ فَأَبَتْ أَنْ تَرْجِعَ فَأَرْسَلْنَ جاؤ تو حضرت فاطمہ نے پھر جانے سے انکار کر دیا۔پھر زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشِ فَأَتَتْهُ فَأَغْلَظَتْ انہوں نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا۔وہ آپ وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدُنَكَ الله کے پاس آئیں اور لب ولہجہ کچھ سخت تھا، یعنی انہوں نے کہا: آپ کی ازواج ابن ابی قحافہ کی لڑکی سے متعلق الله الْعَدْلَ فِي بِنْتِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ آپ کو انصاف کرنے کیلئے اللہ کی قسم دیتی ہیں اور اونچی فَرَفَعَتْ صَوْتَهَا حَتَّى تَنَاوَلَتْ عَائِشَةَ آواز سے بولیں یہاں تک کہ حضرت عائشہ کو بھی برا بھلا وَهِيَ قَاعِدَةٌ فَسَبَّتْهَا حَتَّى إِنَّ کہنا شروع کر دیا اور حضرت عائشہ بیٹھی ہوئی تھیں۔رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت زینب حضرت عائشہ کو سخت سست کہنے لگیں لَيَنْظُرُ إِلَى عَائِشَةَ هَلْ تَكَلَّمُ قَالَ: جس پر رسول اللہ علیہ حضرت عائشہ کی طرف دیکھنے فَتَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ تَرُدُّ عَلَى زَيْنَبَ حَتَّى لگے، آیا وہ بھی کچھ بولتی ہیں۔(عروہ) کہتے تھے: آخر أَسْكَتَتْهَا قَالَتْ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ حضرت عائشہ حضرت زینب کو ترکی بہ ترکی جواب صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ شكشهَا قَالَتْ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ دینے لگیں حتی کہ حضرت زینب کو چپ کرا دیا۔(انہوں نے کہا :) نبی ﷺ نے حضرت عائشہ کی طرف وَقَالَ: إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ۔دیکھا اور فرمایا : آخرا ابو بکر کی بیٹی ہے۔