صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 626
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۲۶ ۱ ۵ - كتاب الهبة الله عَائِشَةَ فَإِذَا كَانَتْ عِنْدَ أَحَدِهِمْ هَدِيَّةٌ کوئی ایسا ہ یہ ہوتا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں يُرِيدُ أَنْ يَهْدِيَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى پیش کرنا چاہتا تھا تو وہ اسے پیش کرنے میں اس وقت کا صلى الله علومه اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ انتظار کرتا جبکہ رسول اللہ ﷺ عائشہ کے گھر میں رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ہوتے ۔ ام سلمہ کے فریق نے (ام سلمہ سے ) باتیں بَيْتِ عَائِشَةَ بَعَثَ صَاحِبُ الْهَدِيَّةِ إِلَى صلى الله کیں اور اُن سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے کہو کہ لوگوں سے یہ فرمائیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكَلَّمَ حِزْبُ أَمِّ سَلَمَةَ بھیجنا چاہے تو آپ جس بیوی کے گھر میں بھی ہوں ، وہ وہاں بھیج دیا کرے۔ جو انہوں نے کہا تھا ام سلمہ نے صل الله۔ فَقُلْنَ لَهَا : كَلَّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وہ آپ سے کہہ دیا، تو آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُوْلُ مَنْ دیا اور ان ازواج نے (ام سلمہ سے) پوچھا تو انہوں أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی نے بتایا کہ آپ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً فَلْيُهْدِهَا حَيْثُ انہوں نے ام سلمہ سے کہا کہ تم آنحضرت (ع) سے كَانَ مِنْ بُيُوتِ نِسَائِهِ فَكَلَّمَتُهُ پھر کہو ۔ ام سلمہ کہتی تھیں: جب آپ میری باری پر أُمُّ سَلَمَةَ بِمَا قُلْنَ فَلَمْ يَقُلْ لَّهَا شَيْئًا میرے ہاں آئے تو میں نے آپ سے پھر کہا، تو آپ فَسَأَلْنَهَا فَقَالَتْ : مَا قَالَ لِي شَيْئًا فَقُلْنَ نے پھر انہیں جواب نہ دیا اور ان ازواج نے ام سلمہ لَهَا : فَكَلِّمِيْهِ قَالَتْ : فَكَلَّمَتَهُ حِيْنَ دَارَ سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ نے مجھے کچھ جواب إِلَيْهَا أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ لَّهَا شَيْئًا فَسَأَلْنَهَا نہیں دیا۔ تو از واج نے پھر اُن سے کہا کہ تم آنحضرت فَقَالَتْ: مَا قَالَ لِي شَيْئًا فَقُلْنَ لَهَا: ) سے کہتی رہو، یہاں یہاں تک کہ آپ کچھ جواب كَلِّمِيْهِ حَتَّى يُكَلِّمَكِ فَدَارَ إِلَيْهَا دیں۔ جب آپ ام سلمہ کے پاس باری پر آئے تو انہوں نے پھر کہا۔ آپ نے حضرت ام سلمہ سے فرمایا : فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا : لَا تُؤْذِينِي فِي مجھے عائشہ کی وجہ سے تکلیف نہ دو کیونکہ وحی عائشہ کے عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي سواکسی اور بیوی کے بستر پر نہیں ہوئی۔ حضرت ام سلمہ ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو صلى الله لفظ ”فَقُلْتُ، فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۲۵۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔