صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 624 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 624

صحيح البخاري - جلدم ۶۲۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة ٢٥٧٩ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ :۲۵۷۹: محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ کیا کہ خالد بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ خالد حذاء سے، خالد نے حفصہ بنت سیرین سے، سِيْرِيْنَ عَنْ أَمْ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ حفصہ نے حضرت ام عطیہ سے روایت کی۔کہتی تھیں : النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نبي صلى اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ : عِنْدَكُمْ پاس آئے اور آپ نے پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: نہیں، مگر یہ کچھ گوشت شَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ إِلَيْهَا ہے جو ام عطیہ نے بھیجا ہے، اس بکری کا ہے جو آپ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ۖ نے اس کو اموال صدقہ سے دی تھی۔آپ نے فرمایا: وہ اپنے محل پر پہنچ چکا۔اطرافه: ١٤٩٤،١٤٤٦۔به۔تشریح قبولُ الهَدِيَّة: بعض شارحین کا خیال ہے کہ عنوان باب ( نمبر ۶، ۷ ) کا یہ تکرار بلا فائدہ ہے۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه (۲۵) لیکن روایات مندرجہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہدایا کا لیا دیا جانا صحابہ کرام میں عام دستور تھا اور اس میں اعلی وادفی کی کوئی تمیز نہ تھی۔جس معاشرہ میں طبقاتی تقسیم کی رعونت آمیز روح غالب ہوتی ہے اس کا دستور جدا ہوتا ہے۔امیر امیروں سے اور غریب غریبوں سے تحائف لیتے دیتے ہیں۔اس باب کے تحت چھ روایتیں ہیں۔صحابہ کرام کے تعامل سے ظاہر ہے کہ سب رشتے اخوت و مساوات کی لڑی میں پروئے ہوئے اور ایک دوسرے سے بے تکلف تھے۔نسل و رنگ ، حسب و نسب ، ملک و پیشہ اور قومیت کے فرق ان کے درمیان حائل نہ تھے۔متمدن امریکہ میں غلامی کو قا نو نا منسوخ کرنے پر بڑا فخروناز کیا جاتا ہے مگر سفید وسیاہ میں جو خلیج ہے وہ بجائے پر ہونے کے وسیع ہو رہی ہے۔گورے لوگ جماعت احمدیہ کے مبلغین کی دعوت تبلیغ اسلام اس لئے قبول کرنے سے رُکتے ہیں کہ یہ لوگ مساوات کی تلقین کرتے ہیں۔ایک قوم کو دوسری قوم سے اتنی شدید نفرت ہے کہ کالوں کی اولادکو گوروں کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔مذکورہ بالا باب کی چھ روایات سے اسلامی مساوات کی کیفیت بالکل نمایاں ہے اور اس کا نیک اثر معاشرہ اسلامیہ میں اب تک باقی ہے۔قطع نظر اس سے کہ مسلمانوں کی بود و باش اجنبی ممالک میں ہو یادہ اپنے آبائی وطن میں ہوں ، مرور زمانہ سے متغیر اور غیر قوموں کے تمدن سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی تعلیم اور اسوۂ نبوی کا نیک اثر ان میں کم و بیش اب تک پایا جاتا ہے۔