صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 37
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۷ ۳۴- كتاب البيوع رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوْا تاجر تھا جو لوگوں کو قرض پر مال دیا کرتا تھا۔ جب وہ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ تنگدست کو دیکھتا تو اپنے نو جوانوں کو کہتا: اس سے اللهُ عَنْهُ۔ طرفه: ٣٤٨٠۔ در گذر کرو، شاید اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگذر فرمائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس سے در گزر فرمایا۔ رة تشريح : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا : اس باب کی روایت حضرت ابو ہریڑ سے مروی ہے جو بظاہرا ما روایت حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے جو بظاہر الفاظ مفہوماً روایت نمبر ۷ ۲۰۷ زیر باب کے اہی معلوم ہوتی ہے۔ الفاظ میں قدرے قدرے کمی بیشی ہے لیکن مضمون ایک مضمون ایک ہی ہے۔ اُس میں ملائکہ اللہ کے سوال کرنے اور اس شخص کے جواب دینے کا ذکر ہے اور وہ مرفوع ہے اور یہی عنعن ۔ یہاں ذکر ہے کہ ایک تاجر شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ دونوں روایتوں کا تعلق معاملات میں سہولت اور درگذر کرنے سے ہی ہے جس سے پایا جاتا ہے کہ وہ کاروباری آدمی تھا۔ اس باب کے عنوان سے متعلق ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں تنگدست کو مہلت دینے کے لئے سفارش کے رنگ میں ارشاد ہے : وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ (البقرة: (۲۸) یعنی تنگدست کو آسائش تک مہلت دی جائے ۔ تو امام موصوف نے یہ ارشاد باری تعالیٰ نظر انداز کر کے مذکورہ بالا روایت پر مسئلہ کی بنیاد کیوں رکھی ہے۔ یہ آیت سودی کاروبار کی حرمت کے تعلق میں وارد ہوئی ہے اور اس کے لئے باب ۲۵ میں الگ عنوان قائم کیا گیا ہے اور یہاں عام لین دین ادین میں سہولت دینے کا ذکر ہے ۔ دینے کا ذکر ہے۔ بعض شارحین نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس امر کے علاوہ بعض روایات کی صحت اور مد اور ضبط الفاظ بھی یہاں مد نظر ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں بحوالہ حضرت ابوقتادہ ارشاد نبوی ان الفاظ میں ہے : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنفِسٌ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعُ عَنْهُ ا یعنی جس کو یہ پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت کی گھبراہٹوں سے نجات دے تو چاہیے کہ وہ تنگدست کی تکلیف دور کرے یا اُسے بوجھ سے سبکدوش کر دے اور مسند احمد بن حنبل کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ کے اللہ تعالیٰ اُسے جہنم کی لو سے بچائے گا۔ سے بچائے گا۔ نسائی کے الفاظ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہی ر ہی روایت یوں منقول ہے : إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَائِنُ النَّاسَ ے ایک شخص تھا جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی اور وہ لوگوں کو قرض پر مال دیا کرتا تھا۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : مَنْ نَفَسَ عَنْ غَرِيْمِهِ أَوْ مَحَا عَنْهُ كَانَ فِي ظِلَّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ یعنی جس نے اپنے مقروض کی تکلیف دور کی یا اُس کا قرضہ معاف کر دیا ، وہ روز قیامت عرش کے سایہ میں ہوگا۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۳۹۰، ۳۹۱) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۱۹۲) (مسلم، كتاب المساقاة، باب فضل إنظار المعسر) (مسند احمد بن حنبل، جزء اول صفحه ۳۲۷) س (نسائی، کتاب البیوع، باب حسن المعاملة والرفق في المطالبة) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع، باب فى ثواب إنظار المعسر والرفق به، جز ۴ صفحه ۵۴۶)