صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 612
البخاری جلدم ۶۱۲ ۵۰ - كتاب المكاتب قیصر کو دو۔روما کی حکومت کے زوال کے ساتھ قرون مظلمہ کا دور شروع ہوا اور ہر جگہ طبقہ ملوکہ کی شوروں کی سی حالت تھی۔اسی دوران اسلام کی شمع حریت و مساوات واخوت فروزاں ہوئی۔یہ شمع کو کب دری کی شکل میں درخشاں ہوئی اور اس کی شریعت کے انوار سے قرونِ مظلمہ کی تاریکی دُور ہوئی اور غلاموں کی نجات کا دروازہ کھلا۔بنی نوع انسان کو احساس ہوا کہ یہ طبقہ بشری بھی ہمارا برا بر کا بھائی ہے۔اِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ تمہارے بھائی ہی تمہارے نوکر چاکر ہیں۔جو تم کھاتے ہو اس سے تم ان کو کھلاؤ۔جو تم پہنتے ہو وہ انہیں پہناؤ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان کو مشقت میں نہ ڈالو۔اگر کوئی مشقت آمیز کام انہیں دو تو خود اس میں شریک ہو۔(کتاب العتق باب ۱۵ روایت نمبر ۲۵۴۵) یہ حریت و مساوات اور اخو پر مبنی حقیقی جمہوریت ہے۔جس کی بنیاد اسلام نے اٹھائی اور اس میں اس روحانی پیوند سے اس نے کام لیا جو خالق و مخلوق میں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین، اسوۂ حسنہ اور شریعت اسلامیہ پر مبنی تدوین قانون سے اسلامی جمہوریت کو بہت بڑی مدد ملی۔اس کا نیک اثر ہر جگہ محسوس کیا گیا۔گوممالک عربیہ میں ملوکیت کے دوبارہ قائم ہونے پر سابقہ زمانوں کی لعنت پھر عود کر آئی اور اسلامی جمہوریت کے نقش و نگار مدھم ہونے شروع ہو گئے۔لیکن باوجود اس کے اسلام نے جو ساتویں صدی کے تصورات میں تبدیلی پیدا کی تھی ، وہ اپنی گہرائی اور پائداری میں ایسی نہ تھی کہ خیر القرون کے حدود ختم ہونے کے ساتھ زوال پذیر ہو جاتی، یا مکان و زمان کی حدود میں سمٹ کر بے اثر ہو جاتی، بلکہ اس تبدیلی میں ابدی حقائق کار فرما تھے اور مدھم ہوتے ہوئے بھی اس سے ممالک یورپ کے مفکرین شدید طور پر متاثر ہوئے۔ان کے خیالات میں انقلاب آیا۔جس سے انیسویں اور بیسویں صدی میں ایک نیا دور شروع ہوا جو دراصل اسلامی تصورات حریت و مساوات کا مرہون منت ہے۔لیکن یہ انقلاب اس روحانی نظریہ سے خالی ہے جو اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔اس لئے موجودہ زمانہ کی حکومتیں جمہوریت کا ظاہری نشان تو رکھتی ہیں لیکن ہوں دولت و تملک اور ڈولی کشمکش سے اس کی شکل مسخ شدہ ہے۔موجودہ جمہوریتوں کے اصول سیاست بہت پیچیدہ ہیں اور نتیجہ صفر۔عالمگیر فقر وفاقہ اور اخلاقی فرد مائیگی سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔کتاب العتق کی تشریح کا یہ تاریخی حصہ بہت دلچسپ ہے اور تفصیلی موازنہ وسط کا محتاج۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے اصول حریت و مساوات واخوت اور قانونِ شریعت کے احترام کے لئے ذہنی فضا پیدا اور دل کی زمین ہموار اور مخلوق کا رابطہ خالق کے ساتھ استوار کیا جائے تا مخلوق کا حقیقی بھلا ہو۔