صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 611
البخاري - جلدم ۶۱۱ ۵۰ - كتاب المكاتب ہے: الَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْامِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْههُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَ غُلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ۔(الاعراف: ۱۵۸) یعنی وہ لوگ جو ہمارے اس رسول کی اتباع کرتے ہیں جو نبی ہے اور امی ہے جس کا ذکر توریت اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے۔وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے اور سب پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور سب بری چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے بوجھ جو اُن پر لا دے ہوئے تھے اور طوق جو اُن کے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے وہ ان سے دُور کرتا ہے۔مسلمانوں کے مدنظر ہر وقت وہ اغراض رہنی چاہیں جن کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے۔مغربی دنیا کے قانونچوں کی نقالی کا شوق انہیں اس مقدس غرض سے بے راہ نہ ہونے دے بلکہ اس ذہنی تربیت اور تزکیۂ نفس کی ضرورت ہے جس کے طفیل عہد نبوت میں صحابہ کرام نے سیدھا سادہ آئین رکھتے ہوئے حیرت انگیز ذہنی تبدیلی کا نمونہ دکھایا اور دنیا میں یہ پہلی صحیح معنوں میں جمہوریت تھی جس کی بنیاد حریت و مساوات واخوت پر رکھی گئی ہے۔اسلام سے قبل دنیا میں دو ملکتیں تھیں جو جمہوریت کے تصور سے ہم آہنگ ہوئیں۔ایک مملکت یونان اور دوسری مملکت روما۔یونان میں پر کلیز کا عہد دور زریں سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ جمہوریت کا علمبر دار تھا اور اس کے نظام حکومت میں تمام شہری برابر کے شریک تھے اور اس میں قانون کی برتری مسلم تھی نظم ونسق اور عدلیہ کا احترام تھا۔ان خوبیوں کے باوجود طبقہ غلام شہری حقوق سے محروم تھا اور اسی طبقہ کی ریاست ہائے یونان میں اکثریت تھی۔افلاطون، ارسطو اور زمینوفون جیسے فلاسفروں نے ان کی حالت زار پر ترس کھایا اور اس کے بارے میں ہمدردی سے معمور اظہار خیال کیا اور غلامی ختم کرنے کی تحریک کی مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ایک بڑے طبقہ کی شہری حقوق سے محرومی ایک بہت بڑا نقص تھا جس کا مداوا یونانی فلاسفروں سے نہ ہو سکا۔اس کے بعد روما کی مملکت میں جمہوری نظام تقریبا یونانی اساس پر قائم ہوا۔یونانی حکومت ابتداء میں ملوکیت تھی لیکن انتخابی صورت کی۔حاکم اعلیٰ مجلس امراء کا مشورہ قبول کرنے کا پابند تھا۔حاکم اور امراء کے درمیان کشمکش ہوئی جس سے رفتہ رفتہ جمہوریت کی بنیاد اٹھی۔عوام کے منتظم ہونے پر امراء کا اقتدار ختم ہوا اور انہوں نے جمہوری اصول پر اپنی حکومت کی تشکیل کی۔ہر دو بر ارتقاء میں غلاموں کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی اور وہ کھلے اکھاڑوں میں انتہائی وحشت کا تختہ مشق بنائے گئے۔تاریخ عالم سے واقف ان کی لرزہ خیز داستان ظلم وستم سے ناواقف نہیں۔اہل روما تدوین قانون میں شہرہ آفاق ہیں، مگر اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ انہوں نے غلام طبقہ کی داد رسی نہیں کی بلکہ شکنجہ قانون میں انہیں مضبوطی سے جکڑا۔روما والوں کا نظام غلامی یونانیوں کے نظام غلامی سے زیادہ وسیع اور زیادہ ظالمانہ تھا۔رومی فتوحات کی وسعت نے غلاموں کی کثرت میں اضافہ کیا اور اس اضافے کے ساتھ انہوں نے غلاموں کے لئے قانونی شکنجہ زیادہ سخت کر دیا۔اس لئے رومی جمہور بہت زیادہ بدنام ہے۔عیسائیت بھی محبت و رحم کا پیغام لے کر اُٹھی اور روم میں داخل ہوئی لیکن اس نے بھی مظلوم غلاموں کا کوئی علاج نہ کیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مسیح کے اس قول کا پاس رکھا۔حکومت قیصر کا حق ہے