صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 610
صحيح البخاری جلد ۴ ٦١٠ ۵۰ - كتاب المكاتب ☆ کتاب العتق کے ابواب سے ظاہر ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف میں اعلان فرمایا کہ جو غلام اسلام میں داخل ہو گا وہ آزاد ہو گا ۔ اس اعلا اد ہو گا ۔ اس اعلان سے پایا جاتا ہے کہ اسلام اور غلامی جمع نہیں ہو سکتے اور کتاب العتق کی تمہید میں بتایا جا چکا ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کارہائے نمایاں میں سے ایک عظیم الشان کام غلامی کی لعنت کا قلع قمع کرنا ہے جس کے لئے علاوہ صحف قدیمہ کی پیشگوئیوں کے سورۃ البلد کی مہتم بالشان پیشگوئی ہے۔ یہ خدمت جلیلہ اپنی نوعیت میں ایسی نہ تھی جو کسی فوری حکم سے انجام پاتی کیونکہ ازمنہ قدیمہ میں معاشرہ بشریہ کا معتد بہ حصہ غلاموں کا طبقہ تھا جس کے ذریعہ سے اقتصادی نظام قائم تھا؛ وہ یکسر ختم نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ فوری انقلاب سے توازن بگڑ جاتا ہے اور معاشرہ انسان کی زیست خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے معاشرہ کی موجودہ حالت کا قیاس کریں جس کا اقتصادی نظام سرمایہ داری پر ہے۔ ابھی تک سرمایہ داری کا اندازہ سیم وزر کی صورت میں کیا جاتا ہے جو ذریعہ ہے مبادلہ اشیاء کا ۔ اگر کوئی مصلح چاہے کہ زر مبادلہ کا طریق منسوخ ہونا چاہیے اور اس کی جگہ مبادلہ بالاشیاء کا پرانا طریق رائج کرنا بہتر ہے تو یہ منسوخی یکسر عمل میں لانے سے جو دقتیں سد راہ اور نتائج ناگوار ہو سکتے ہیں وہ تصور کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح غلام صرف مالکوں کے لئے سرمایہ دولت تھے جس سے پیداوار اور مبادلہ اشیاء میں کام لیا جاتا تھا۔ اس لئے شریعت اسلامیہ نے کسی فوری انقلاب کی جگہ تدریجی تبدیلی کے لئے حکمت و تدبیر سے کام لیا۔ مالکوں کے حقوق ملکیت فوراً کا لعدم نہیں کئے بلکہ ذہنی تبدیلی کی راہ اختیار کی اور اس تبدیلی کے ساتھ قانون سازی سے بھی مدد لی جو اسلامی جمہوریت کی روح کے ساتھ موافقت رکھتی تھی۔ صرف ایک مسئلہ مکاتبت کے بارے میں ایک ہی واقعہ مکا تبت سے کئی مسائل کا شرعی استنباط کیا گیا ہے اور ان کے لئے مختلف عنوان قائم کئے ہیں۔ مزید برآں ائمہ و فقہاء نے بھی اس مسئلہ مکاتبت کے تعلق میں بہت سی شقیں در شقیں مستنبط کر کے اپنے اپنے زمانے کی ضرورتیں پوری کی ہیں۔ نوع انسان آج کل بدترین قسم کی ذہنی اور اقتصادی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے۔ صحابہ کرام نے اسلامی شریعت کی مدد سے اپنے زمانہ میں بہت بڑا جہاد کر کے خاک افتادہ غلاموں کو آزاد اور خوشحال بنادیا اور آج بھی جس امر کی ضرورت ہے وہ اسی قسم کے اجتہاد اور جہاد کی ہے۔ جس میں ذہنی پستی ، اخلاقی فرومانگی اور اقتصادی زبوں حالی کا حقیقی علاج ہو۔ دقیق تشریحات کی اتنی ضرورت نہیں جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ دقیق تشریحات کسی اچھی حالت کی آئینہ دار نہیں بلکہ اصل ضرورت ذہنی تربیت کی ہے جس کے ساتھ انسان کا قدم جاده استقامت پر قائم ہو اور معاشرہ بشریہ میں ہر فرد اپنا مقام شناخت کرے اور بطیب خاطر حقوق کا ادا کرنے والا ہو۔ ایسا تربیت یافتہ ہر نوع کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ قوانین اور ارباب قوانین کی گرفت سے بے خوف و خطر ہو کر اپنے کردار کا آپ حاکم و مد بر ہوتا۔ ہے۔ وسعت آئین سازی کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ اس امر کی غمازی ہے کہ قوم ذہنی غلامی کی وجہ سے درماندہ اور پابہ زنجیر ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب العتق کی جو تمہیدا اٹھائی ہے، اس کا تعلق بعثت نبویہ کے ان اہم اغراض سے ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں بالتکرار جا بجا ہے۔ ان میں سے سورہ اعراف کی یہ آیت بھی سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الجزية، باب ما جاء من عبيد أهل الحرب مسلما، جزء ۹ صفحه ۲۲۹ ☆