صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 609 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 609

البخاري - جلدم ۵۰- كتاب المكاتب تحریر میں محفوظ ہے اور ائمہ فقہاء نے استدلال و استنباط کی بنیاد اول قرآن مجید پر رکھی ہے۔پھر ان عملی اور قولی تشریحات پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ثابت ہیں۔دار الافتاء اور دار القضاء نے ان کے بموجب فتوے اور فیصلے صادر کئے ہیں۔ذہنی شکست خوردگی کی وجہ سے مسلمان نئی سے نئی اصطلاحوں سے مرعوب ہو کر سمجھنے لگا ہے کہ اس کے ہاں تو ویسا آئین نہیں جو ممالک غربیہ کے پاس ہے حالانکہ دنیا کے لئے شریعت اسلامیہ ایک آئین معروف اور ضابطہ قواعد دیا گیا ہے۔جس میں قیاسات کے لئے بھی اصول موجود ہیں اور ان کے لئے جیسا کہ اجتہاد کا دروازہ پہلے کھلا تھا، اب بھی کھلا ہے۔اسی اجتہاد کی برکت سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے نتائج حاصل کئے۔ذیل میں غلاموں کی آزادی سے متعلق بطور نمونہ اعداد و شمار سیرت خاتم النبین مصففه حضرت صاحبزاده مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے سے نقل کئے جاتے ہیں، جن سے دیگر صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد کا بآسانی قیاس کیا جا سکتا ہے۔یہ سیرت بلحاظ تحقیق اور ضبط و صحت ایک ثقہ تاریخ ہے۔جسے ہم عصر سیرت نگاروں نے بہت سراہا ہے اور یہ اعداد و شمار صرف آٹھ نفوس مطہرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔تعداد آزادشدگان نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ۔حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ (حضرت خدیجہ کے عم زاد بھائی )۔۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ۶۳ ۶۷ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حضرت ذو الكلاع الحميرى۔میزان ۳۰۰۰ ۲۰۰۰۰ ۸۰۰۰ ۳۲۳۰۰ (سیرت خاتم النبیین جلد دوم صفحه ۳۹۷) غلاموں کی آزادی سے متعلق مذکورہ بالا اعداد و شما ربطور نمونہ از خروارے ہیں۔اس سے اس روح کا پتہ چلتا ہے جو اسلامی تعلیم کے نتیجہ میں مالکوں کے نفوس میں پیدا ہو چکی تھی۔یہ نتیجہ اس طوعی شفقت کا ہے جو معاشرہ کے درماندہ و پست طبقہ کے ساتھ پیدا ہوئی اور یہ شفقت چند افراد کے ساتھ اور کسی مکان و زمان سے مخصوص نہ تھی بلکہ اس کا دامن وسیع تھا۔اس طوعی شفقت کے علاوہ اسلامی قانون میں غلاموں کی آزادی کے لئے بہت بڑی گنجائش رکھی گئی ہے جیسا کہ