صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 608
البخاري - جلدم ۶۰۸ ۵۰ - كتاب المكاتب الفاظ فَاشْتَرَاهُ لِذَلِكَ بجائے جَازَ اختیار کئے گئے ہیں ورنہ مشروعیت مکا تبت بے فائدہ ہے کیونکہ مشروعیت کا مقصد ہی یہ ہے کہ غلام و لونڈی قید و بند سے آزاد ہو، نہ یہ کہ وہ ایک مالک سے دوسرے مالک کی طرف منتقل ہو جائے جو مطلق بیع سے بھی ہو سکتا ہے۔مکاتبت بیچ کی طرح عقد لازم ہے اور اس میں معین رقم کے عوض مالکانہ حقوق سے سبکدوشی بطور شرط مضمر ہوتی ہے جس کے بعد مکاتب آزاد ہوگا اور یہی سمجھوتہ اُس بیع و شراء میں بھی قائم رہتا ہے جو مکا تب اپنے متعلق اپنی آزادی کے بارے میں دوسرے سے کرتا ہے۔فقہاء نے مکاتبت کو بیع کی طرح عقد قرار دیتے ہوئے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ آیا یہ عقد ما لک و غلام دونوں کے لئے لازم اور واجب اعمل ہے یا اختیاری یا لزوم و خیار مکاتیب اور مکاتب کے حق میں برابر ہیں یا ایک کے حق میں لازم ہے اور دوسرے کے حق میں غیر لازم۔امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مکاتبت طرفین کے لئے ہی بطور عقد لازم ہے۔یعنی جب غلام آقا سے اپنی آزادی کے لئے مکاتبت کا مطالبہ کرے تو لازماً اُس کا مطالبہ پورا کیا جائے گا۔تحریر ہونے کے بعد دونوں میں سے کسی کو اُسے فتح کرنے کا حق نہیں۔مثلاً غلام معذرت کرتا ہے کہ وہ رقم ادا نہیں کر سکتا اور عقد مکاتبت مسخ کرنا چاہتا ہے مگر آقام کا تبت کے قائم رکھنے پر مصر ہو تو غلام پر مکاتبت لازم ہے۔وعلى هذا القیاس آقا بھی فتح نہیں کر سکتا۔ہاں قاضی کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور مالک اُس کے فیصلے کا پابند ہوگا۔امام شافعی کے نزدیک لونڈی اور غلام پر عقد مکاتبت لازم نہیں۔اُن کے لئے جائز ہے کہ جب چاہیں فسخ کردیں۔کیونکہ مکاتبت کا حکم اُن کی اصلاح و بہبود کے لئے جاری ہوا ہے اور یہ عقد رہمن کی طرح ہے۔راہن جب چاہے اپنا ہن تک کر سکتا ہے جبکہ مرتہن میعاد ر ہن کا پابند ہے اور رہن مسح کرنے کا مجاز نہیں۔اسی طرح آقا پر عقد مکاتبت لازم ہے کیونکہ اسلام نے مکاتبت کا حکم آقا کی مصلحت کے لئے نہیں بلکہ غلاموں کی آزادی ہی کی غرض سے جاری کیا ہے۔آقا کی حیثیت راہن کی سی ہے۔(بداية المجتهد، كتاب الكتابة، الجنس الثاني، جزء ثانی صفحه ۲۸۵) كُنتُ غُلَامًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ : روایت میں آیمن کا نام آتا ہے۔اس کے متعلق جاننا چاہیے کہ ایمن حبشی کی نام کے دو شخص ہیں۔ایک عبدالواحد کے باپ جو مدینہ منورہ میں فروکش تھے اور دوسرے ایمن بن نایل جو عسقلان میں مقیم تھے۔دونوں تابعی ہیں۔عقبہ بن ابی لہب عبد العزیٰ بن عبد المطلب فتح مکہ میں مسلمان ہو گئے تھے۔عبد اللہ بن ابی عمرو نے عتبہ کے بیٹوں سے عبد الواحد کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۴۱) (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحه ۱۲۴) خلاصہ ابواب مکا تبت یہ ہے کہ از روئے شریعت اسلامیہ لونڈی اور غلام کی آزادی بذریعہ مکاتبت جاری کرنے میں ان کی بہتری مد نظر ہے اور اس میں ان کے لئے ہر قسم کی سہولت پیدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس بارہ میں جو احکام جاری ہوئے ہیں وہ اسلامی دستور کے لئے بطور اصول اساسی کارفرما رہے ہیں۔یہ کہنا کہ اسلامی دستور کا کوئی وجود ہی نہیں، حقائق سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔قرآن مجید تعلقات معاشرہ اسلامیہ کی صحت و استواری کے لئے ایک ضابطہ قوانین ہے جو