صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 607 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 607

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۰۷ ۵۰ - كتاب المكاتب لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ وَمَاتَ وَوَرِثَنِي کے بیٹے عتبہ کا غلام تھا اور وہ مر گیا۔ اس کے بیٹے میرے بَنُوهُ وَإِنَّهُمْ بَاعُوْنِي مِنِ ابْنِ أَبِي وارث ہوئے اور انہوں نے مجھے (عبداللہ بن ابی عمرو عَمْرِو { فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرُو کے پاس فروخت کر دیا۔ پھر ابن ابی عمرو نے مجھے وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلَاءَ فَقَالَتْ آزاد کر دیا اور عقبہ کے بیٹوں نے حق وراثت کی شرط کر لی تھی۔ (حضرت عائشہ نے) کہا: بریرہ میرے پاس دَخَلَتْ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ فَقَالَتِ آئی اور وہ مکاتب تھی اور اس نے کہا: آپ مجھے خرید لیں اشْتَرِيْنِي وَأَعْتَقِيْنِي قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَتْ : اور مجھ کو آزاد کر دیں ۔ حضرت عائشہ نے کہا: اچھا۔ بریرہ لَا يَبْيْعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوْا وَلَائِي بولی: وہ مجھے نہیں بیچتے جب تک میرے حق وراثت کی فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِذَلِكَ۔ فَسَمِعَ شرط (اپنے لئے ) منظور نہ کروالیں۔ (حضرت عائشہ بِذَلِكَ النَّبِيُّ أَوْ بَلَغَهُ فَذَكَرَ نے کہا: مجھے اس شرط پر خریدنے کی ضرورت نہیں۔ یہ لِعَائِشَةَ فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا ۔ بات نبی ﷺ نے سنی یا آپ کو پہنچی۔ آپ نے حضرت فَقَالَ: اشْتَرِيْهَا وَأَعْتِقِيْهَا وَدَعِيْهِمْ عِائشہ سے ذکر کیا، تو حضرت عائشہ نے جو کچھ بریرہ نے يَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ کہا تھا، بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: اسے خرید لو اور اسے آزاد کر دو اور جو وہ شرطیں چاہیں لگائیں۔ چنانچہ فَأَعْتَقَتْهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ فَقَالَ حضرت عائشہ نے اسے خرید لیا اور آزاد کر دیا اور اس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ کے مالکوں نے حق وراثت کی شرط کی تھی ۔ نبی صلی اللہ لِمَنْ أَعْتَقَ وَإِنِ اشْتَرَطُوْا مِائَةَ شَرْطٍ۔ علیہ وسلم نے فرمایا: حق وراثت اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے، اگر چہ مالک سو شرطیں ہی کیوں نہ کریں۔ اطرافه: ٤٥٦ ، ١٤٩٣، ٢١٥٥ ، ٢١٦٨، ٢٥٣٦ ، ٢٥٦٠ ، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥٢، ٥٢٨٤۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۵٧٨ ٥٤٣٠، ٦٧١٧، ٦٧٥١، ٦٧٥٤، ٦٧٥٨ ، ٦٧٦٠ تشريح : إِذَا قَالَ الْمُكَاتَبُ اشْتَرِنِي وَاعْتِقْنِي فَاشْتَرَاهُ لِذَلِكَ: پانچواں باب مسئلہ حلق ------- ومکاتبت کے جواز یا عدم جواز کے لئے قائم نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے اور جملہ شرطیہ کا جواب لفظ جاز مقدر سمجھتے ہیں بلکہ مکاتب کی خرید میں اصل غرض وغایت کی طرف توجہ مبذول کرانا مقصود ہے اور اسی لئے الفاظ فَاعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍ و فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء۵ حاشیہ صفحہ ۲۴۱) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔