صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 595 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 595

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۹۵ ۵۰ - كتاب المكاتب الله الحلم ٥٠- كِتَابُ الْمُكَاتَبِ 0000000000 بَاب : إِثْمُ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوْ كَهُ اس شخص کا گناہ جو اپنے مملوک پر ( زنا کی ) جھوٹی تہمت لگائے تمہید: اس کتاب میں احکام مکاتبت کا بیان ہے ۔ مکاتبت لفظ کتب سے باب مفاعلہ ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں تحریر کرانا اور شرعی معنی ہیں معاہدہ آزادی تحریر کرانا ۔ غلام یا لونڈی جو اپنے مالک سے آزاد ہونا چاہے تو اس کا مالک احکام شریعت کی رو سے انکار نہیں کر سکتا ، بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ نقدی کی صورت میں دفعہ یا اس کی قیمت کا فیصلہ کر کے بالاقساط اس سے وصول کرے اور اسے آزاد کر دے۔ اس بارے میں تحریری معاہدہ کو مکاتبت کہتے ہیں۔ تحریر لکھوانے والا (مالک) مُكَاتِب اور جس کے حق میں آزادی کی تحریر لکھی جائے وہ مُكَاتَب کہلاتا ہے۔ لفظ المكاتب اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں مکاتبت کے بارے میں ان الفاظ میں حکم وارد ہوا ہے: وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَّاتُوهُمْ مِّنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِي الكُمُ (النور: ۳۴) یعنی تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مکاتبت کا مطالبہ کریں۔ اگر تم ان میں بھلائی دیکھو تو تم ان سے مکاتبت کرو اور اگر ان کے پاس پورا مال: را مال نہ ہو تو جو اللہ نے تم کو مال دیا ہے اس میں سے کچھ سے کچھ دے کر ان کی آزادی ممکن بنا دو۔ یہ حکم لونڈی اور غلام دونوں کی آزادی سے متعلق ہے اور بصیغہ امر ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ إِثْمُ مَنْ قَذَفَ مَمْلُو كَهُ : عنوان قائم کر کے اس باب کے تحت کوئی روایت درج نہیں کی گئی۔ امام ابن حجر کہتے ہیں کہ ابو علی بن شبویہ کی روایت کے مطابق الفاظ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ سے قبل لفظ مقدمہ تھا۔ جس کے بعد جگہ خالی چھوڑی گئی کہ بطور تمہید روایت یا حوالے درج کئے جائیں گے مگر مصنف ایسا نہیں کر سکے اور کتاب الحدود میں قذف العبید کا عنوان قائم کر کے اس میں متعلقہ روایت درج کی گئی ۔ (دیکھئے روایت نمبر ۶۸۵۸) بعض نسخوں میں یہ عنوان باب نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۲۷، ۲۲۸) (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۱۱۶)