صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 596
البخاري - جلدم ۵۹۶ ۵۰ - كتاب المكاتب بَاب ۱ : الْمُكَاتَبُ وَنُجُوْمُهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ نَجْمٌ وہ غلام جس نے آزادی حاصل کرنے کے لئے اپنے مالک سے معاہدہ کیا ہو اور اس کی قسطوں کا بیان، ہر سال میں ایک قسط وَقَوْلُهُ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر : تمہارے مملوکہ غلاموں مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ إِنْ عَلِمْتُم میں سے جو آزادی حاصل کرنا چاہتے ہوں، اگر تم ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کر لو اور (اگر ان کے فِيهِمْ خَيْرًا وَأَتُوْهُمْ مِنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِي پاس پورا مال نہ ہو تو ) جو اللہ نے تم کو مال دیا ہے، اس أتكُم ( النور : (٣٤) وَقَالَ رَوْحٌ میں سے کچھ مال دے کر ان کی آزادی ممکن بنا دو۔اور عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ : قُلْتُ لِعَطَاء : أَوَاجِبْ روح بن عبادہ ) نے ابن جریج سے نقل کیا ( کہ انہوں عَلَيَّ إِذَا عَلِمْتُ لَهُ مَالًا أَنْ أُكَاتِبَهُ؟ نے کہا: میں نے عطاء بن ابی رباح ) سے پوچھا کہ قَالَ: مَا أَرَاهُ إِلَّا وَاحِبًا۔وَقَالَ عَمْرُو اگر میں سمجھوں کہ میرے غلام کے پاس مال ہے تو کیا مجھے پر واجب ہے کہ میں اس کو مکاتبت کی بناء پر آزادی ابْنُ دِينَارٍ : قُلْتُ لِعَطَاءِ: اَتَأْثَرُهُ عَنْ دے دوں؟ تو انہوں نے کہا: میں تو اسے واجب ہی أَحَدٍ؟ قَالَ : لَا ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ مُوسَى سمجھتا ہوں۔اور عمرو بن دینار نے کہا: میں نے عطاء ابْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سِيْرِيْنَ سَأَلَ أَنَسا سے پوچھا: کیا آپ کا یہ بیان کسی روایت کی بناء پر ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔پھر انہوں نے مجھے بتایا۔موسیٰ بن الْمُكَاتَبَةَ - وَكَانَ كَثِيْرَ الْمَالِ فَأَبَى اس نے انہیں خبر دی کہ سیرین نے حضرت انس سے فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ : مکاتبت کے لئے درخواست کی ، وہ بہت مالدار تھے۔كَاتِبُهُ فَأَبَى فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَيَتْلُوْ عُمَرُ : حضرت انس نے ) قبول نہ کیا۔اس پر وہ حضرت عمر فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ﷺ کے پاس گئے۔(حضرت عمر) نے فرمایا: اس کے ساتھ مکاتبت کرو۔(حضرت انس) نے نہ مانا تو حضرت عمر نے اُن کو درہ لگایا اور حضرت عمر یہ آیت پڑھتے جاتے تھے اگر تمہیں اُن میں بھلائی معلوم ہو تو اُن سے مکاتبت کرو۔چنانچہ حضرت انس نے سیرین سے مکاتبت کی، یعنی تحریر لکھوا کر آزاد کیا۔فَكَاتَبَهُ۔