صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 589
صحيح البخاری جلدم تشریح: ۵۸۹ ۴۹- كتاب العتق كَرَاهِيَةُ التَّطَاوَل عَلَى الرَّقِيقِ وَقَوْلِهِ عَبْدِي أَوْ أَمَتِي : بعض فقہاء نے مطلق میرے آقا، میرے غلام یا میری باندی کہہ کر کسی کو پکارنے کی ممانعت کی ہے اور اس ممانعت کے تعلق میں احادیث نبویہ نقل کی ہیں۔عنوان باب کا مفہوم یہ ہے کہ مشار الیہ ممانعت تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے اور اس کے لئے عنوان باب ہی میں بعض حوالہ جات قرآن مجید کی آیات، احادیث اور آثار میں سے نقل کئے گئے ہیں جن سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ان الفاظ کا استعمال بھی ایک نسبتی امر ہے۔بلانے میں تکبر و غرور کی صورت نہ ہو بلکہ ملاطفت ہو تو جائز ہے۔محبت و پیار کے لب ولہجہ میں غلام کہنا جائز ہے۔اسی طرح اگر بطور واقعہ بیان ہو تو جائے اعتراض نہیں۔ایسے الفاظ کے استعمال میں موقع محل دیکھا جائے گا۔وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ: عنوانِ باب کا پہلا حوالہ یہ آیت ہے: وَانْكِحُوا الْآيَامی مِنْكُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ O ( النور :۳۳) یعنی قوم میں سے جو بیوہ عورتیں ہوں اور جو تمہارے غلام لونڈیاں نیک اور صالح ہوں ان کی شادیاں کر دیا کرو۔اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا اور بہت جاننے والا ہے۔عَبْدًا مَّمْلُوكًا: عنوان باب میں مذکورہ دوسری آیت یہ ہے: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوْنَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) (النحل : ۷۶) نیز اللہ مثال بیان کرتا ہے ایک بندے کی جو کسی کی ملکیت ہو اور وہ کسی چیز پر کوئی قدرت نہ رکھتا ہو اور اس کی بھی جسے ہم نے اپنی جناب سے اچھا رزق عطا کیا ہو اور وہ اس میں سے خفیہ طور پر بھی خرچ کرتا ہو اور اعلانیہ بھی۔کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں؟ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اُن میں سے نہیں جانتے۔} وَالْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ تیسری آیت جس کا عنوان باب میں ذکر ہے، یہ ہے: وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ دُبُرٍ وَّ الْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ۔(يوسف: ۲۶) اور حضرت یوسف اور زلیخا دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اسی کشمش میں زلیخا نے حضرت یوسف کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور جب دروازے تک پہنچے تو انہوں نے دروازے کے پاس اس عورت کے خاوند کو پایا۔ط مِنْ فَتَيْتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ : چوتھی آیت یہ ہے: وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يُنْكِحَ الْمُحْصَنَتِ الْمُؤْمِتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ۔(النساء: ٣٦) { اور تم میں سے جو کوئی مالی وسعت نہ رکھتے ہوں کہ آزاد مومن عورتوں سے نکاح کر سکیں تو وہ تمہاری مومن لونڈیوں میں سے جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ( کسی سے) نکاح کر لیں۔اسی طرح مزید فرمایا: وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيتِكُمُ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنَا لتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَياةِ الدُّنْيَا (النور: ۳۴) تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔اگر وہ نکاح کرنا چاہیں تا کہ تم اس طریق سے دنیاوی زندگی کا سامان طلب کرو۔