صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 590 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 590

صحيح البخاري - جلدم ۵۹۰ ۴۹ - كتاب العتق وَاذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ : پانچویں آیت یہ ہے: وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجِ مِنْهُمَا اذْكُرُنِي عِنْدَ رَبِّكَ۔(یوسف : ۴۳) اس شخص سے جس کی نسبت وہ سمجھتے تھے کہ وہ قید خانہ میں سے نجات پائے گا، کہا: اپنے آقا سے میرا بھی ذکر کرنا۔ان پانچوں آیتوں میں غلام ،لونڈی اور آقا کے الفاظ بولے گئے ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو قول قُومُوا إِلى سَيْدِكُمْ اور مَنْ سَيْدُكُمُ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔پہلا قول آپ کا حضرت سعد بن معاذ کے استقبال سے متعلق ہے جو آپ نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کا اُٹھ کر استقبال کرو۔(کتاب المغازی باب ۳۰ روایت نمبر ۴۱۲۱) اور آپ کا دوسرا قول حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ قبیلہ بنی سلمہ کے وفد سے آپ نے پوچھا: تمہارا سردار کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: الْجَدُ بنُ قَیس (الادب المفرد، باب البخل، جزءا صفحا) (المستدرک على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب بشر بن البراء بن معرور، جز ۳۰ صفر ۲۴۲) عنوان باب میں مذکورہ بالا حوالے نقل کرنے کے بعد چھ روایتیں نقل کی گئی ہیں ؛ جن میں عبد وغیرہ الفاظ کے استعمال کے جواز اور عدم جواز کی صورتیں موقع ومحل کے لحاظ سے واضح ہیں جو محتاج تشریح نہیں۔روایت نمبر ۲۵۵۴ سے بتایا گیا ہے کہ لونڈی اور غلام سے یہ امر مخصوص نہیں کہ وہ اپنے مالک کی ملکیت میں ہیں بلکہ معاشرہ بشری کا سارا نظام سلسلہ تابعیت ومتبوعیت سے وابستہ ہے۔بیوی خاوند کی اور خاوند بیوی کا اپنے اپنے دائرہ عمل میں تابع و متبوع ہیں۔وہ ایک دوسرے سے عند الضرورت منسوب کئے جاسکتے ہیں۔روایت نمبر ۲۵۵۲ میں مذکورہ ممانعت کی صورت بھی واضح ہے کہ الفاظ میرے غلام، میری باندی نخوت و کبر سے استعمال نہ ہوں جس سے لوگوں میں احساس کمتری پیدا ہو۔بَاب ١٨ : إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ جب تم میں سے کسی ایک کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو چاہیے کہ اسے اپنے ساتھ دستر خوان پر بیٹھائے ) ٢٥٥٧ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالِ :۲۵۵ حجاج بن منہال نے ہمیں بتایا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: محمد بن زیاد نے زيَادٍ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُجھے بتایا۔میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نا۔وہ بیمہ سے روایت کرتے تھے : جب تم میں أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَإِنْ لَّمْ سے کسی ایک کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلَيْنَا وِلُهُ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ اگر اس کو اپنے ساتھ نہ بٹھائے تو چاہیے کہ وہ اس کو