صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 579 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 579

صحيح البخاری جلدم ۵۷۹ ۴۹ - كتاب العتق متصور نہیں۔غرض ابتداء غلام لونڈی بنانے کی کافروں سے شروع ہوئی اور اسلام میں بطور سزا کے یہ حکم جاری ہوا اور اس میں بھی آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔“ چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفه ۴ ۲۵، ۲۵۵) مزید تفصیل کے لئے سیرت خاتم النبین ، جزء دوم صفحہ ۳۷۸ تا۴۲۲ بھی دیکھئے۔غزوہ بنی مصطلق ۵ھ میں ہوا اور سورۃ نور بھی اسی سال نازل ہوئی ، جب آنحضرت کہ اس غزوہ سے فارغ ہو کر مدینہ میں واپس تشریف لائے اور سورۃ محمد کا نزول بھی مدینہ میں اس وقت ہوا جب جنگی جھٹر ہیں شروع ہوئیں یعنی غزوہ بدر سے قبل۔اس سے ظاہر ہے کہ احکام متعلقہ ممانعت غلامی کی تکمیل تدریجا ہوئی ہے۔باب کی روایت نمبر ۴۳ ۲۵ میں جوسب سے آخر میں درج کی گئی ہے بنو عنبر سے جو بنو تمیم کی شاخ ہے، جنگ کا ذکر ہے۔یہ غزوہ فتح مکہ کے بعد 9 ھ میں ہوا۔جس میں اکیس عورتیں اور تمہیں مرد بطور قیدی لائے گئے۔یہ قبائل حضرت اسماعیل کی طرف منسوب ہوتے تھے، خواہ قحطانی قبیلے ہوں یا عدنانی۔ان کی آزادی پسندیدہ سمجھی جاتی تھی جس کے لئے نذریں مانی جاتی تھیں۔چنانچہ نبی کریم ہے نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عنبری قبیلہ کی عورت جو اُن کے حصہ قیمت میں آئی ہے وہ آزاد کر دی جائے۔اسلام کا نصب العین غلاموں کی آزادی ہے۔اسرائیلی شریعت کی رو سے تمام جنگی قیدی تہ تیغ ہونے کے قابل اور عورتیں اور بچے اور ان کے اموال سب غنیمت اور حق حلال قرار دیئے گئے ہیں۔بلکہ حکم ہے کہ اپنے دور ونزدیک دشمنوں میں سے کوئی ذی نفس جیتا نہ چھوڑا جائے۔(استثناء باب ۲۰ آیات ۱۳ تا ۱۸) حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والوں نے بھی یہی راہ اختیار کی ہے۔پولوس نے زیادہ سے زیادہ یہ تلقین تو کی ہے کہ غلام اپنے آقا کے فرمانبردار رہیں اور آقا اُن سے حسن سلوک کریں۔(افسیوں کے نام خط باب ۶ آیات ۵ تا ۹ ) ( تیمتھیس کے نام خط باب ۶ آیات ۲۱) ( عبرانیوں کے نام خط باب ۱۳ آیت (۳) یہ نصیحت اس وقت کی ہے کہ جب پولوس خود قیدی اور ان کے ساتھی مغلوب اور ابتر حالت میں تھے اور اس حالت میں بھی وہ اپنی قوم کی ذہنیت مسموم کرنے سے نہیں رہ سکے کہ جب انہوں نے تمام عربوں کو ہاجرہ کی اولاد کہہ کر لونڈی زادے اور غلام قرار دیا اور کہا: پس اے بھائیو ! ہم لونڈی کے فرزند نہیں بلکہ آزاد ہیں۔(خط بنام گلتیوں باب ۴ آیت ۲۸ تا ۳۱ و باب ۵ آیت۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس حقارت آمیز اسرائیلی نظریہ کا بخوبی علم تھا۔اس لئے آپ نے اسماعیل زادوں کو غلامی کی حالت میں آزاد کرنے کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ تلقین فرمائی اور اس کے علاوہ دوسرے غلاموں کی آزادی سے متعلق بھی احکام صادر فرمائے۔حضرت سلمان اور حضرت صہیب فارسی النسل اور رومی غلام تھے۔سینکڑوں غلام لونڈیاں بغیر تمیز قوم و رنگ ونسل کے آزاد کئے گئے۔صحابہ کرام کو جنگ بدر کے قیدیوں سے بھی نیک سلوک کرنے کی تاکید فرمائی اور اس ارشاد کی تعمیل میں وہ اپنے آپ کو اچھی خوراک سے محروم رکھتے اور قیدیوں کو مقدم کرتے۔(السيرة النبوية لابن هشام، ذكر أسرى قريش، مقتل النضر وعقبة جز ۲صفحه ۲۰۹) روایت نمبر ۲۵۳۹-۲۵۴۰ میں بھی ہوازن کے جنگی قیدیوں سے نیک سلوک اور آزاد کرنے کا ذکر ہے۔