صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 578 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 578

صحيح البخاري - جلدم OLA ۴۹ - كتاب العتق مطلق عبد کا ذکر ہے۔عربی ہو یا کبھی کسی غلام کی تخصیص نہیں، یعنی دونوں غلام بنائے جاسکتے ہیں۔بقول ابن بطال بعض شارحین کی رائے یہ ہے کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ کسی کو غلام بنا نا مناسب نہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۱) یہ رائے زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ مذکورہ بالا مثال میں آزادی اور غلامی دونوں حالتیں بیان کر کے حالت غلامی جوادنی ہے، حمد باری تعالیٰ کے خلاف قرار دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ جہالت کا نتیجہ ہے۔غلام بنانا، اس کو بیچنا، قید میں رکھنا، لونڈی سے عزل اور بچوں سے قیدی کا سلوک کرنا؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن کا تعلق ادنیٰ حالات تمدن بشری سے ہے۔شریعت اسلامیہ کا مطمح نظر اس ادنیٰ حالت کو مٹانا اور اعلیٰ حالت کو پیدا کرنا ہے جو حمد باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہو۔اسلام کی ساری تعلیم کا منشاء اسی ایک مرکزی نقطہ کے اردگرد چکر لگاتا ہے کہ انسان صفات الہیہ سے متصف ہو کر ان قیود سے آزاد ہوا جن میں جکڑ کر وہ اپنی فطرت کے اعلیٰ تقاضے پورا کرنے سے محروم ہے۔اس مرکزی نقطہ تعلیم کی روشنی میں معنونہ مسائل کا جواب بالکل واضح ہے کہ ان حالات کا تعلق اونی حالات تمدن سے ہے۔جن سے اسلام انسان کو رہائی دینا چاہتا ہے۔چنانچہ مسئلہ عزل جس کا ذکر روایت نمبر ۲۵۴۲ میں ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے اس کے جواز سے متعلق فتویٰ پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مروجہ قوانین جنگ کے مطابق فتوی دیا ہے مگر بعد کو یہ طریق آپ کی طرف سے ممنوع قرار دیا گیا اور جنگی قیدیوں کی آزادی سے متعلق ایک معین ضابطہ قانون بنایا گیا ہے کہ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء۔(محمد: ۵) یعنی قید کرنے کے بعد جنگی قیدیوں سے احسان سے پیش آؤ اور حسب حالات بغیر تاوان لئے یا فدیہ لے کر انہیں آزاد کر دو اور اگر ان میں سے کسی قیدی کے پاس فدیہ کے لئے مال نہ ہو اور وہ بذریعہ معاہدہ ( مکاتبت ) آزادی حاصل کرنا چاہتا ہو تو اسے یہ سہولت دی جائے، جیسے فرمایا: فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُمْ مِنْ مَّالِ اللهِ الَّذِى اتنكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا۔(النور : ۳۴) اس آیت سے ظاہر ہے کہ وہ لونڈیاں جو بذریعہ مکاتبت یا فدیہ یا از راہ احسان مندی آزاد نہیں ہوئیں، وہ نکاح کرنا چاہیں تو ان کا نکاح کیا جائے اور انہیں ایسی حالت میں نہ رہنے دو کہ غیر شریفانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں۔اس آیت سے ماقبل غلام اور لونڈیوں دونوں کے نکاح کرنے سے متعلق واضح حکم ان الفاظ میں ہے: وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ( النور :۳۳) ( اور تمہارے درمیان جو بیوائیں ہیں ان کی بھی شادیاں کر اؤ اور اسی طرح جو تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے نیک چلن ہوں ان کی بھی شادی کراؤ۔اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی بنادے گا اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا (اور) دائی علم رکھنے والا ہے۔خلاصہ یہ کہ بعض قوانین اور تلقین وعظ ونصیحت اور عملی نمونہ سے اسلامی معاشرہ میں تدریجا ایسی فضا پیدا کی گئی ہے کہ غلامی کی ادنیٰ حالت جوازمنہ قدیمہ سے ہر ملک اور قوم میں پائی جاتی تھی آخر تبدیل ہوگئی۔مذکورہ بالا احادیث کا تعلق ابتدائی حالات سے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس تعلق میں فرماتے ہیں کہ ”اسلام اس بات کا حامی نہیں کہ کافروں کے قیدی غلام اور لونڈیاں بنائی جائیں بلکہ غلام آزاد کرنے کے بارہ میں اس قدر قرآن شریف میں تاکید ہے کہ جس سے بڑھ کر