صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 580
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۸۰ ۴۹ - كتاب العتق بَاب ١٤ : فَضْلُ مَنْ أَدَّبَ جَارِيَتَهُ وَعَلَّمَهَا جس نے اپنی لونڈی کو آداب سکھائے اور اس کو تعلیم دی ، اس کی فضیلت کا بیان ٢٥٤٤: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ ۲۵۴۴: اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلِ عَنْ انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا۔ انہوں نے مطرف مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ سے ، مطرف نے نے شعبی سے، شعبی نے ابی بردہ - بردہ سے، أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ إِلَيْهَا فرمایا: جس کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی طرح پرورش کرے۔ پھر اس کو آزاد کر دے اور ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ۔ اس سے شادی کرلے تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔ اطرافه ٩٧، ٢٥٤٧، ٢٥٥١ ، ٣٠١١، ٣٤٤٦، ٥٠٨٣۔ تشريح ۔ فَضْلُ مَنْ أَدَّبَ جَارِيَتَهُ وَعَلَّمَهَا : روایت زیر باب کیلئے کتاب علم تشرح بالا روایت ۹۷ كتاب النکاح باب ۱۲ روایت نمبر ۵۰۸۳ بھی دیکھئے ۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد اس بارہ میں واضح ہے کہ اسلام کا نصب العین لونڈی کی تعلیم و تربیت ، آزادی اور اس کو ایک آزاد خاتون کا درجہ دلوانا ہے، نہ لونڈی بنا کر اس کا گھر میں رکھنا۔ اگر اس کے وارث کسی ذریعہ سے اسے آزاد نہیں کراتے، نہ مکاتبت سے وہ اپنی آزادی حاصل کر سکتی ہے تو پھر تیسری صورت اسلامی تعلیم کی رُو سے وہ ہے جس کا ذکر مذکورہ بالا روایت میں ہوا ہے۔ لونڈی کے بارے میں امام الوقت حضرت مسیح موعود العلم کا صریح فتوی ہے کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کا طریق چھوڑ دیا ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کے لئے بھی روا نہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بناویں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے: جو تم جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو۔ پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کا فرلوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بناویں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں۔ اس لئے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا ناجائز اور حرام ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ حاشیه صفحه ۲۵۳) مستملی اور سرخسی کی روایت کے مطابق اس جگہ ”فَعَالَهَا“ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۱۴) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔