صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 570 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 570

صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۷۰ ۴۹ - كتاب العتق ائْذَنْ لَّنَا فَلْتَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ دیں کہ ہم اپنی بہن کے بیٹے عباس کو اس کا فدیہ چھوڑ فِدَاءَهُ فَقَالَ : لَا تَدَعُوْنَ مِنْهُ دِرْهَمًا۔ دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کا ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔ اطرافه ٣٠٤٨، ٤٠١٨۔ تشريح : إِذَا أُسِرَ أَخُو الرَّجُلِ أَوْ عَمُّهُ هَلْ يُفَادَى إِذَا كَانَ مُشْرِكًا: من ابوداود وغیرہ میں اس مفہوم کی روایات وارد ہوئی ہیں کہ رشتہ دار اگر اسیر ہونے کی وجہ سے کسی کی ملک میں ہو رقم جائیں تو وہ بغیر فدیہ آزاد قرار پائیں گے۔ اس بارہ میں مشہور حدیث حضرت سمرہ بن جندب کی ہے جو متعد د سندوں سے مروی ہے۔ حسن بصری اور حماد کی سند سے اس روایت کے یہ الفاظ ہیں : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ مَّلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرّ ۔ (ابو اداؤد، كتاب العتق باب فیمن ملک ذا رحم محرم تر ترندی ۔ ہے اور ابن ماجہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ نسائی سے کی روایت میں صرف ذَا مَحْرَمٍ ہے بجائے ذَا رَحِمٍ مَحْرَم کے۔ اس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے : جو حص اپنے محرم رشتہ دار کا ما شخص رشتہ دار کا مالک ہوا تو وہ مملوک رشتہ دار آزاد ہے۔ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی کمزوری کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا ہے۔ علی بن مدینی نے یہ روایت مستنکر ، تر مستنكر ، ترمذی نے مرسل اور ابوداؤد نے نے منفرد قرار دی ہے کہ حماد بن سلمہ کے سوا اس کا اور کو اور کوئی راوی نہیں ۔ فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۰۷) علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابن حجر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ کیونکہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے مستدرک میں امام احمد بن حنبل کی یہی رو یہی روایت دو واسطوں سے مرفوعاً نقل کی ہے۔ ہے۔ بسند حماد بن سلمه عن عاصم الاحول وقتاده عن الحسن عن سمرة اور عبدالله بن دينار عن ابن عمر اور با اور یہ کہنا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، علامہ عینی کے نزدیک مسلم نہیں کیونکہ امام احمد بن جند امام احمد بن حنبل نے ان الفاظ سے تصریح کی ۔ یح کی ہے: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَالْمَحْفُوظ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنُدُبٍ وَصَحَّحَهُ أَيْضًا ابْنُ حَزْمٍ وَابْنُ الْقَطَّانِ وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ هَذَا خَبَرٌ صَحِيحٌ تَقُوْمُ بِهِ الْحُجَّةُ كُلٌّ مِّنْ رَوَاهُ ثِقَاتٌ ۔ یعنی یہ روایت امام بخاری اور امام مسلم کی شروط صحت کے مطابق ہے اور ابن حزم اور ابن قطان نے بھی صحیح قرار دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے رادی قابل اعتبار ہیں۔ ان کا حوالہ عمل کرنے کے بعد علامہ عینی کا حوالہ نقل کرنے کے بعد علامہ عینی کہتے ہیں کہ اگر ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی رائے تسلیم کی جائے تو ضمرة بن ربیعہ جیسے ثقہ راوی کی تکذیب لازم آئے گی جنہوں نے سفیان ثوری سے بھی یہی حدیث نقل کی ۔ ہے۔ اُن سے بڑھ کر ثقہ شام میں اور کوئی نہیں ۔ امام احمد بن حنبل اور ابن سعد کی ضمرة بن ربیعہ سے متعلق یہ شہادت ہے: كَانَ ثِقَةً مَامُونًا لَمْ يَكُنُ هُنَاكَ أَفْضَلَ مِنْهُ ۔ وه قابل اعتماد واطمینان تھے۔ ان سے افضل اور کوئی نہ تھا، اور ابن یونس کی رائے ہے : گان (ترمذی، كتاب الاحكام عن رسول الله الله، باب ما جاء فيمن ملک ذا رحم محرم ابن ماجه، کتاب الاحکام، من ملك ذا رحم محرم فهو حر) السنن الكبرى للنسائي من ملك ذا رحم محرم، جزء ۳ صفحه ۱۷۳)