صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 570
صحيح البخاری جلدم ۵۷۰ ۴۹ - كتاب العتق الْذَنْ لَّنَا فَلْتَتْرُكَ لِابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاس دیں کہ ہم اپنی بہن کے بیٹے عباس کو اس کا فدیہ چھوڑ فِدَاءَهُ فَقَالَ : لَا تَدَعُونَ مِنْهُ دِرْهَما۔دیں۔آپ نے فرمایا: اس کا ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔اطرافه ٣٠٤٨، ٤٠١٨ - ن إِذَا أُسِرَ اَحُو الرَّجُلِ اَوْ عَمُّهُ هَلْ يُفَادَى إِذَا كَانَ مُشْرِكًا: سنن ابوداؤد تشریح: وغیرہ میں اس مفہوم کی روایات وارد ہوئی ہیں کہ رشتہ دار اگر اسیر ہونے کی وجہ سے کسی کی ملک میں ہو جائیں تو وہ بغیر فدیہ آزاد قرار پائیں گے۔اس بارہ میں مشہور حدیث حضرت سمرہ بن جندب کی ہے جو متعد دسندوں سے مروی ہے۔حسن بصری اور حماد کی سند سے اس روایت کے یہ الفاظ ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللهُ مَنْ مَّلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَم فَهُوَ حُرٌّ۔(ابو داؤد، کتاب العتق باب فیمن ملک ذا رحم (محرم) ترندی اور ابن ماجہ سے نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔نسائی کی روایت میں صرف ذَا مَحْرَم ہے بجائے ذَا رَحِمٍ مَحْرَم کے۔اس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے: جو شخص اپنے محرم رشتہ دار کا مالک ہوا تو وہ مملوک رشتہ دار آزاد ہے۔امام ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی کمزوری کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا ہے۔علی بن مدینی نے یہ روایت مستنکر ، ترمذی نے مرسل اور ابوداؤد نے منفرد قرار دی ہے کہ حماد بن سلمہ کے سوا اس کا اور کوئی راوی نہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۰۷) علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابن حجر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔کیونکہ حاکم رحمتہ اللہ علیہ نے مستدرک میں امام احمد بن حنبل کی یہی روایت دو واسطوں سے مرفوعا نقل کی ہے۔بسند حماد بن سلمه عن عاصم رحيم الاحول وقتاده عن الحسن عن سمرة اور عبدالله بن دينار عن ابن عمر اور یہ کہنا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، علامہ عینی کے نزدیک مسلم نہیں کیونکہ امام احمد بن حنبل نے ان الفاظ سے تصریح کی ہے: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنُدْبٍ وَصَحَّحَهُ أَيْضًا ابْنُ حَزْمٍ وَابْنُ الْقَطَّانِ وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ هَذَا خَبَرٌ صَحِيحٌ تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ كُلٌّ مَّنْ رَوَاهُ ثِقَاتٌ۔یعنی یہ روایت امام بخاری اور امام مسلم کی شروط صحت کے مطابق ہے اور ابن حزم اور ابن قطان نے بھی صحیح قرار دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے راوی قابل اعتبار ہیں۔ان کا حوا نقل کرنے کے بعد علامہ عینی کہتے ہیں کہ اگر ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کی رائے تسلیم کی جائے تو ضمرة بن ربیعہ جیسے ثقہ راوی کی تکذیب لازم آئے گی جنہوں نے سفیان ثوری سے بھی یہی حدیث نقل کی ہے۔اُن سے بڑھ کر ثقہ شام میں اور کوئی نہیں۔امام احمد بن حنبل اور ابن سعد کی ضمرة بن ربیعہ سے متعلق یہ شہادت ہے: كَانَ لِقَةً مَامُونًا لَمْ يَكُنْ هُنَاكَ أَفْضَلَ مِنْهُ۔وہ قابل اعتماد واطمینان تھے۔ان سے افضل اور کوئی نہ تھا، اورابن یونس کی رائے ہے گان آکا لے (ترمذى، كتاب الاحكام عن رسول الله الله الله ، باب ما جاء فیمن ملک ذا رحم محرم) ابن ماجه، كتاب الاحکام، من ملك ذا رحم محرم فهو حر) (السنن الكبرى للنسائی، من ملک ذا رحم محرم، جزء۳ صفحه ۱۷۳)