صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 571
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۷۱ ۴۹ - كتاب العتق فَقِيهُ أَهْلِ فَلَسْطِينَ فِي زَمَانِهِ کہ وہ اپنے زمانہ میں اہل فلسطین کے فقیہ تھے۔وَالْحَدِيثُ إِذَا انْفَرَدَ بِهِ مِثْلُ هَذَا كَانَ صَحِيحًا وَلَا يَضُرُّهُ تَفَرُّدُهُ۔اور اگر حدیث بیان کرنے میں وہ تنہا بھی ہوں ، تب بھی ان کی روایت مخدوش نہیں۔(عمدة القاری جز ۱۳ صفحه ۹۶ ۹۷) مذکورہ بالا تفصیلی بحث مد نظر رکھ کر اگر عنوان باب کی ترکیب پر نظر ڈالی جائے تو مندرجہ ذیل امور امام بخاری کی رائے پر روشنی ڈالتے ہیں۔اول : لفظ اسیر جنگی قیدی کے لئے ہے۔دوم: الفاظ اوا الرَّجُلِ أَوْ عَمه جو زیر باب روایت سے ماخوذ ہیں کہ عباس اور عقیل جو جنگ بدر میں قید ہوئے ان میں سے ایک چچا تھے اور دوسرے بھائی۔سوم: الفاظ هَلْ يُفَادَى استفتاء کی صورت ہے کہ آیا فدیہ کے ذریعے آزاد کرائے جائیں۔چہارم: الفاظ إِذَا سَحَانَ مُشْرِ كا جب ان میں سے کوئی قیدی مشرک ہو۔یہ چاروں قرینے ایسے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ والی روایت بجائے رڈ کرنے کے درست تسلیم کی ہے اور صرف جنگی قیدیوں سے مخصوص کبھی گئی ہے کہ ان سے فدیہ بصورت مبادلہ اسیر یا نقدی لے کر انہیں آزاد کیا جائے۔روایت مندرجہ بالا بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ فدیہ لے کر آزادی کا مسئلہ تو ہر اسیر سے متعلق ہے، اس میں رشتہ دار قیدی کی کیا تخصیص۔اسیران بدر چالیس اوقیہ سونا فی کس لے کر آزاد کئے گئے تھے اور حضرت عباس کے ساتھ رشتہ داری کی وجہ سے رعایت نہیں کی گئی۔غرض حضرت سمرہ بن جندب والی روایت کا مفہوم اس واقعہ کے تحت محدود کرنا ہوگا کہ بذریعہ فدیہ اسیر آزاد کرانا ان کے رشتہ داروں پر واجب ہے۔لونڈی غلام کی آزادی کے تعلق میں اسلامی شریعت کا یہ چوتھا قانون ہے اور اسی قانونی نقطۂ نظر سے فقہاء نے اس مسئلہ میں بحث اٹھائی ہے۔امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مذکورہ بالا ارشاد نبوی کے تحت صرف وارث رشتہ دار آزاد کرائے جائیں۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے مگر انہوں نے بھائیوں کو مستثنی کیا ہے کیونکہ عقیل جو حضرت علی کے بھائی تھے بغیر فدیہ آزاد نہیں ہوئے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نسب میں ہر محرم رشتہ دار مملوک ہونے پر آزاد قرار پائے گا۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی بھی یہی رائے ہے۔جمہور کا مذہب بھی یہی ہے۔مگر اس سے ظاہر ہے کہ ائمہ اربعہ کے نزدیک حضرت سمرہ بن جندب کی یہ حدیث بلحاظ صحت سند درست ہے تو ، تفصیل کیلئے عمدۃ القاری جزء۱۳ صفحه ۹۷،۹۶ نیز بداية المجتهد، كتاب العتق، جزء ثاني صفہ ۲۷۸ دیکھئے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان باب میں بھائی یا چا کا ذکر خاص کر اسی فقیہی اختلاف ہی کی وجہ سے نمایاں کیا ہے۔فقہاء نے اس تعلق میں یہ صراحت بھی کی ہے کہ رشتہ دار قیدی کی خرید و فروخت جائز نہیں۔