صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 569
صحيح البخاری جلدم ۵۶۹ ۴۹ - كتاب العتق تشریح: بَيْعُ شرط ولاء ( حق وراثت) آزاد ہوں گے اور آزاد کرنے والے شخص کے ساتھ آزاد شدہ لونڈی غلام کا تعلق مددگاروں اور اعزہ اقارب سا ہوگا۔ان کی اسی حیثیت کی وجہ سے ان کا لقب مولی یا مولاۃ رکھا گیا ہے۔مولا کے معنی ہیں دوست و معاون۔اسی سے لفظ موالاۃ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لفظ مولیٰ انہیں معنوں میں استعمال ہوتا تھا جن معنوں میں آج کل لفظ Ally استعمال ہوتا ہے جو دراصل عربی لفظ ولاية اور وِلا کی تبدیل شدہ شکل ہے۔اسلامی قانون میں آزادی کے بعد غلام اور لونڈی کو لاوارث اور کسمپرسی کی حالت میں نہیں رہنے دیا گیا بلکہ آزاد کرنے والے خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات مضبوطی سے قائم رکھے گئے ہیں۔یہاں تک کہ آزاد کرنے والا اگر لاوارث رہے تو آزادشدہ لونڈی اور غلام اس کے وارث ہوں گے اور اگر لونڈی غلام لاوارث ہونے کی حالت میں مریں تو آزاد کرنے والا ان کا وارث ہوگا۔یہ قانون بھی غلاموں کی بہبود اور معاشرہ کی مضبوطی کے لئے ہے۔لَاءِ وَ هِبَتُهُ: آزادی کے تعلق میں یہاں ایک چوتھا قانون بیان ہوا ہے کہ لونڈی غلام بغیر بَاب ١١ : إِذَا أُسِرَ أَخُو الرَّجُلِ أَوْ عَمُّهُ هَلْ يُفَادَى إِذَا كَانَ مُشْرِكَا؟ جب کسی کا مشرک بھائی یا چا جنگ میں قید کر لیا جائے تو کیا فدیہ دے کر اس کو چھڑالیا جائے؟ وَقَالَ أَنَسٌ : قَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اور حضرت انس کہتے تھے کہ حضرت عباس نے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَادَيْتُ نَفْسِي صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے اپنا فدیہ ادا کیا اور وَفَادَيْتُ عَقِيْلًا۔وَكَانَ عَلِيٌّ لَهُ نَصِيبٌ عقیل کا بھی۔اور حضرت علیؓ کا اس غنیمت میں حصہ تھا مِنْ تِلْكَ الْغَنِيْمَةِ الَّتِي أَصَابَ مِنْ أَخِيهِ جو ان کو اپنے بھائی عقیل اور چچا عباس سے حاصل عَقِيْلٍ وَعَمِّهِ عَبَّاسٍ۔ہوئی تھی۔٢٥٣٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۲۵۳۷ اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ که اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عُقْبَةَ عَنْ مُوسَى بْن عُقْبَةَ عَن ابْن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے ابن شہاب سے شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ عَنْهُ أَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا نے مجھ سے بیان کیا کہ چند انصار نے رسول اللہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: ﷺ سے اجازت مانگی اور کہا: آپ ہمیں اجازت