صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 566 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 566

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۶۶ ۴۹ - كتاب العتق محدثین کے نزدیک قوی نہیں مگر یہ امر واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بطور غلام اپنے پاس نہیں رکھا جیسا کہ حضرت عمرو بن حارث کی روایت میں ان الفاظ سے تصریح ہے: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ الَ عِنْدَ مَوْتِهِ عَبْدًا وَّلَا امة ( روایت نمبر ۲۷۳۹) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت کوئی لونڈی غلام نہیں چھوڑا۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے کسی معین رائے کا اظہار نہیں کیا کیونکہ الفاظ هُوَ لَک میں نہ لونڈی کے اتم الولد ہونے کا ذکر ہے اور نہ اس کی آزادی کا۔علامہ ابن حجر نے اس خاموشی کی یہ توجیہہ بھی کی ہے کہ کچھ صحابہ کرام مثل حضرت ابوبکر ، حضرت علی اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ام الولد کو فروخت کرنا مروی ہے۔لیکن اس امر کی وضاحت نہیں کہ ان کا یہ فعل کس وقت اور کن حالات میں تھا۔حضرت عمر و غیرہ کا قول و عمل اتم الولد کی آزادی کے بارے میں مثبت اور زیادہ قوی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۰۴) اَنْ تَلِدَ اللَامَةُ رَبَّهَا : عنوان باب میں حضرت ابو ہریرہ کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے اس کی تشریح کے لیے کتاب الایمان زیر باب ۳۷ روایت نمبر ۵۰ دیکھئے۔قومی تباہی کے علل و اسباب اور اس کی علامتوں میں سے لونڈیاں بھی ہیں۔أَنْ تَلِدَ الْامَةُ رَبَّهَا۔لونڈی اپنے مالک کو جنے گی یعنی وہ لونڈی ہی رہے گی اور آزاد نہ کی جائے گی۔اس سے ضمنا یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ام الولد آزاد کی جائے ، ورنہ اس کا لونڈی کی حالت میں رہنا قومی زوال کا موجب ہوگا۔اگر چہ امام بخاری سے متعلق یہ خیال کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کی لیکن میرے نزدیک معنونہ حوالہ نے ان کی رائے بالکل واضح کر دی ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال حضرت جابڑ کی روایت سے ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں: بِعُنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ النَّبِي الله وَاَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے زمانہ میں ہم اپنی کینز میں جو بچوں کی مائیں ہوتیں بیچا کرتے تھے۔جب حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ہمیں اس سے روکا اور ہم رک گئے۔یہ آخری اجتماع ہے جو مستند روایت سے ثابت ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۰۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت سودہ زمعہ کی بیٹی تھیں اور اس وجہ سے زمعہ کی لونڈی کا بیٹا ان کا بھائی سمجھا جاتا تھا مگر جب ثابت ہو گیا کہ وہ زمعہ کا بیٹا نہیں بلکہ عقبہ بن ابی وقاص کا ہے تو نا محرم ہونے کی وجہ سے آپ نے حضرت سودہ کو اس سے پردہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔زمعہ مسلمان نہیں تھے اور ان کی لونڈی آیت إِلَّا مَا مَلَكَتْ کے تحت ملک یمین نہیں تھی۔اس واقعہ سے بعض احناف نے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ فرما کر لفظ فِرَاش (بستر ) سے لونڈی کو بچے کی پیدائش پر بستر والی قرار دیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ مالک کی ہمسر اور آزاد ہے جیسے بستر مالک کا ہے، بچے والی لونڈی کا بھی ہے اور اس اشتراک اور مساوات کی وجہ سے گویا وہ آزاد ہے۔یہ تاویل بہت دُور کی ہے اور اس باب میں رڈ کر دی گئی ہے۔جمہور کے نزدیک مذکورہ بالا حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ام الولد آزاد ہے اور نہ یہ کہ وہ آزاد نہیں ہے بجز اس کے کہ تکلف سے استدلال کیا جائے۔( فتح الباری جزء ۵ صفه ۲۰۳ ) (عمدۃ القاری جلد ۳ صفحه ۹۲ ۹۳)