صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 565
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۶۵ ۴۹ - كتاب العتق صلى الله ابْنُ أَخِي عَهْدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ فَقَالَ عَبْدُ بھائی کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ اس ابْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَخِي کا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میرا ابْنُ وَلِيْدَةِ زَمْعَةً وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَظَرَ بھائی ہے جو میرے باپ ) زمعہ کی لونڈی کا بیٹا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ہے ۔ انہی کے بستر پر پیدا ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ابْنِ وَلِيْدَةِ زَمْعَةَ فَإِذَا هُوَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف غور سے دیکھا تو کیا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھتے ہیں کہ وہ تمام لوگوں سے اس (عقبہ ) کے بہت وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ مِنْ مشابہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيْهِ۔ قَالَ عبد بن زمعہ یہ لڑکا تمہارے پاس رہے گا۔ (آپ نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: یہ اس لئے فرمایا) کیونکہ یہ اپنے باپ کے بستر پر پیدا احتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ مِمَّا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ وَكَانَتْ سَوْدَةُ بنت زمعہ سے فرمایا: تم اس سے پردہ کیا کرو کیونکہ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ آپ نے دیکھا کہ وہ شکل میں عقبہ سے ہم مشابہ ہے اور حضرت سودہ نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں ۔ إطرافه: ٢٠٥٣، ۲۲۱۸، ۲۴۲۱، ۲۷۴۵، ٤٣٠٣ ، ٦٧٤٩، ٦٧٦٥، ٦٨١٧، ٧١٨٢۔ وش تشریح : ام الولد : ام الولد وہ لونڈی ہے ج کے اپنے مالک سے مباشرت کے تقیہ میں بچہ پیا ہو۔ آیا وہ آزاد ren---- ہو گی یا لونڈی ہی رہے گی جو بیچی جاسکتی ہے۔ اس بارے میں فقہاء سلف و خلف کے درمیان بہت اختلاف رہا ہے۔ حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت عمر بن عبدالعزیز اور اکثر تابعین کا اور امام امالک و شافعی اور اوزاعی وغیرہ کا فتوی یہی تھا کہ وہ آزاد ہو جائے گی اور لونڈی کا سا سلوک اس کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ بیوی کا سا سلوک ہوگا۔ اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا نا جائز ہوگا۔ جمہور علماء کا بھی یہی مذہب ہے۔ (عمدة القاری جز ۳۰ صفحه ۹۲ ) ( بداية المجتهد، كتاب امهات الأولاد، المسئلة الاولى، جزء ثانی صفحه ۲۹۴، ۲۹۵) اس تعلق میں حضرت ابن عباس کی روایت کردہ حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ جس کے یہ الفاظ ہیں: أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَهِيَ حُرَّةٌ بَعْدَ مَوْتِهِ۔ * یعنی جب لونڈی کے ہاں اپنے مالک سے بچہ پیدا ہو تو وہ آقا کی وفات کے بعد آزاد ہوگی۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ رضی اللہ عنہا کو اپنے بیٹے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش پر آزاد قرار دیا تھا یہ گو یہ روایت المستدرك على الصحيحين كتاب البيوع، جزء ۲ صفحه (۲۳)