صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 556 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 556

صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۵۶ ۴۹ - كتاب العتق ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ وہ اس غلام یا فِي الْعَبْدِ أَوِ الْأَمَةِ يَكُوْنُ بَيْنَ شُرَكَاءَ لونڈی سے متعلق جو شریکوں کی مشترکہ ہو اور پھر فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ يَقُولُ : قَدْ حصہ داروں میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے، یہ وَجَبَ عَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِذَا كَانَ لِلَّذِي فتویٰ دیتے تھے کہ اب ایک حصہ آزاد کرنے والے أَعْتَقَ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ يُقَوَّمُ مِنْ مَّالِهِ کے ذمہ ہے کہ اسے سمارا آزاد کرادے بشرطیکہ جس قِيمَةَ الْعَدْلِ وَيُدْفَعُ إِلَى الشَّرَكَاءِ نے آزاد کیا ہے اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی أَنْصِبَاؤُهُمْ وَيُخَلَّى سَبِيْلُ الْمُعْتَقِ منصفانہ قیمت کے برابر ہو اور اس کے شریکوں کو ان کے حصے ادا کر دیئے جائیں اور آزاد کردہ غلام چھوڑ يُخْبِرُ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى دیا جائے ۔ حضرت ابن عمر اس فتوے کو نبی صلی اللہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ وَابْنُ أَبِي ذِلْبٍ اور لیث اور ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق اور وَابْنُ إِسْحَاقَ وَجُوَيْرِيَةُ وَيَحْيَى بْنُ جویریہ اور کئی بن سعید اور اسماعیل بن امیہ نے بھی سَعِيدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ یہی روایت اختصار سے نقل کی ہے۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَصَرًا ۔ نقل کی۔ إطرافه: ۲٤٩١ ، ۲۵۰۳ ، ۲۵۲۱، ۲۵۲۲، ٢٥۲۳، ٢٥٢٤، ٢٥٥٣۔ تشريح : إِذَا اعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ آمَةً بَيْنَ الشَّرَكَاء لفظ العبد غلام اور لونڈی دونوں پر بولا جاتا ہے۔ اس باب میں ایک ہی روایت حضرت عبداللہ بن عمر کی جو چھ سندوں سے منقول ہے بیان کی گئی ہے۔ راویوں کا بیان ایک دوسرے کا مؤید ہے۔ سابقہ باب میں نیکی کی عام طبعی تحریک سے فائدہ اٹھانے کا ذکر ہے اور اس باب میں مسئلہ عتق اسلامی قانون کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جہاں غلام لونڈی مشتر کہ ہوں ۔ اگر ایک شریک انہیں آزاد کرنا چاہے تو وہ اپنے حصہ سے متعلقہ اعلان کر سکتا ہے۔ پھر باقی ماندہ حصہ کی بابت قیمت کا اندازہ کر کے شریکوں کو ادا کرنے کی ہدایت ہے۔ آزاد کرنے والا شریک اگر خود ساری رقم ادا نہ کر سکتا ہو تو بذریعہ مکا تبت یا بذریعہ بیت المال اس کی باقی ماندہ قیمت شرکاء کو ادا کر کے پورے طور پر آزادی کا موقع بہم پہنچایا جائے ۔ ارشاد فک رَقَبَةٍ کی تعمیل کا شوق صحابہ میں پیدا ہوا اور وہ غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے لگے مگر مشترکہ ملکیت کی صورت میں جب دقت پیدا ہوئی تو آنحضرت