صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 557
صحيح البخاري - جلدم ۵۵۷ ۴۹ - كتاب العتق صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دقت دور کرنے کے لیے عشق کو قانونی شکل دی مگر اس قانون میں بھی جبر و اکراہ سے کام نہیں لیا جیسا کہ روایت نمبر ۲۵۲۳ کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے۔جبر سے ملکیت کا مفہوم باطل ہو جاتا ہے۔اس قانون عشق سے باقی شرکاء کو بھی کار خیر میں برضا ورغبت شریک ہونے کا موقع دیا گیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جب دیکھا کہ ان میں سے ایک مالک اپنا حصہ آزاد کر رہا ہے تو اس کا ساتھی بھی باقی حصہ کی قیمت لے کر انہیں آزاد کرنے میں شریک ہو گیا۔اس حسن تدبیر سے بہت سے غلام اور لونڈیاں آزاد ہو گئے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِهِ وَبَارِكْ وَ سَلَّمْ۔مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَین : باب کی پہلی روایت کے الفاظ بَيْنَ اثْنَيْنِ سے غلط انہی پیدا ہوتی ہے کہ مذکورہ بالا قانون آزادی کا تعلق صرف دو مشتر کہ مالکوں کے غلام سے ہے۔یہ غلط نہی دوسری روایت سے دُور کی گئی ہے۔دو کی تخصیص نہیں بلکہ اس سے زیادہ شریکوں میں سے کوئی ایک شریک بھی اپنا حصہ آزاد کرے تو دوسرے شریک بھی اس آزادی کے ثواب میں مذکورہ بالا طریق سے شریک ہو سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عنوانِ باب الفاظ بَيْنَ الشَّرَكَاءِ سے قائم کیا گیا ہے۔محولہ بالا روایت متعلقہ حضرت ابن عمرؓ کتاب الشركة باب ۵ روایت نمبر ۲۴۹ میں گزر چکی ہے۔اس تعلق میں اس کی تشریح بھی دیکھئے۔فقہاء ائمہ نے مسئلہ معنونہ کے تعلق میں قانونی نقطۂ نظر سے ہی بحث کی ہے۔امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے آزاد کرنے والے شریک پر باقی حصہ آزاد کرانے کی ذمہ داری عائد کی ہے بشرطیکہ صاحب استطاعت ہو۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کے شریک کو اس بارہ میں اختیار ہے، چاہے نقد لے کر یا مکاتبت کے ذریعہ سے آزاد کرے۔جمہور بھی پوری آزادی دلانے کے حق میں ہیں۔خواہ آزاد کرنے والا ادا کرے یا بذریعہ مکاتبت یا بیت المال جیسا کہ اگلے باب میں اس کی تصریح ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب العتق، جزء ثاني صفحه ۲۷۶۔نیز فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۹۲ ۱۹۳، عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۸۳٬۸۲۔روایت نمبر ۲۵۲۵ کے آخر میں مذکورہ بالا روایت سے متعلق چھ اور سندوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان سب میں اختصار سے یہی روایت نقل کی گئی ہے۔آخری حصہ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ان میں نہیں ہے۔جس سے غلط نہی پیدا ہوتی ہے کہ جو حصہ آزاد ہو چکا ہے وہ تو آزاد ہے۔باقی حصہ غلامی ویسی حالت میں رہے۔ایسا نہیں بلکہ اس کی مکمل آزادی ضروری ہے۔لیٹ کی روایت ابن حبان اور نسائی نے ، ابن ابی ذئب کی روایت بہیقی اور ابو نعیم نے یحی بن سعید سے کی روایت مسلم نے اور اسماعیل بن امیہ نے کی روایت عبدالرزاق نے نقل کی ہے۔اور ابن اسحاق کی روایت ابو عوانہ نے نقل کی ہے اور روایت جویریہ بن اسماء كتاب الشركة زیر باب ۱۴ روایت نمبر ۲۵۰۳ دیکھئے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۹۲ ) ( عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۸۵،۸۴) (صحيح ابن حبان، كتاب العتق باب اعتاق ،الشريك ذكر الحكم فيمن أعتق نصيبه بين الشركاء جزء اصفر ۱۵۴) سنن الكبرى للنسائی، کتاب العتق، ذكر العبد يكون بين اثنين فيعتق احدهما نصيبه، جز ۳۶ صفحه ۱۸۰) (سنن الكبرى للبيهقى كتاب العتق باب من قال يكون حرا يوم تكلم بالعتق، جزء ء ا صفحه ۲۷۷) (مسلم، کتاب العتق بابا من أعتق شركاً له في عبد) کا (مصنف عبد الرزاق، كتاب المدبر، باب من أعتق شركا له في عبد ، جزء ۹ صفحه (۱۵) (مسند أبي عوانة، كتاب العتق باب الخبر الدال على ان المعتق نصيبه من عبد بينه و بين شركائه، جزء ۵ صفحه ۳۵۰)