صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 536
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۳۶ ۴۷- كتاب الشركة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ کے صحابہ (مکہ میں ) ذوالحج کی چوتھی رات کی صبح کو پہنچے۔ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهْلِينَ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے اور ابھی عمرہ وغیرہ کی نیت بِالْحَجِّ لَا يَخْلِطُهُمْ شَيْءٌ فَلَمَّا قَدِمْنَا نہیں کی تھی۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو آپ نے ہم سے أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً وَأَنْ نَّحِلَّ إِلَى فرمایا: ہم نے حج کو عمرہ کر دیا ہے۔ (یعنی تمتع کا ارادہ کر لیا ہے ) اور ہم اپنی عورتوں کے پاس جا سکتے ہیں۔ اس کا نِسَائِنَا فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ الْقَالَةُ قَالَ چرچا ہونے لگا۔ عطاء کہتے تھے کہ حضرت حضرت جابر نے کہا: عَطَاءٌ : فَقَالَ جَابِرٌ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى (لوگ کہنے لگے :) کیا ہم میں سے کوئی منی کو جائے اور مِنَى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا فَقَالَ جَابِرٌ حالت یہ ہو کہ اُس کا ذگر منی سے ٹپک رہا ہو۔ حضرت یہ ﷺ پہنچی بِكَفِّهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جابر نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یہ بات نبی علی تک رم صلى الله وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ تو آپ کھڑے ہو کر ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں۔ بخدا أَقْوَامًا يَقُوْلُوْنَ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهِ لَأَنَا میں ان سے زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والا أَبَرُّ وَأَتْقَى لِلَّهِ مِنْهُمْ وَلَوْ أَنِّي ہوں اور اگر مجھے اپنی حالت کا پہلے علم ہوتا جو مجھے بعد کو اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا معلوم ہوا تو میں قربانی (اپنے ساتھ نہ لاتا اور اگر یہ نہ أَهْدَيْتُ وَلَوْ لَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ ہوتا کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو میں بھی احرام کھول ڈالتا۔ اس پر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے۔ لَأَحْلَلْتُ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ا یہ بات ہمارے ہی لئے ہے جُعْشُمٍ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ هِيَ لَنَا أَوْ یا ہمیشہ کیلئے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے۔ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ: لَا بَلْ لِلْأَبَدِ۔ قَالَ: (حضرت جابر ) کہتے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالب بھی وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ (یمن سے) آگئے تو اُن دونوں (عطاء اور طاؤس ) میں سے ایک تو یہ کہتے تھے کہ (حضرت علیؓ) یوں کہتے ہوئے أَحَدُهُمَا يَقُوْلُ: لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ آئے: جس بات کا رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے اس کا احرام باندھے ہوئے میں بھی حاضر ہوں اور وَقَالَ الْآخَرُ : لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ رَسُوْلِ اللَّهِ دوسرے نے (یوں ) کہا کہ حضرت علی احرام میں ، مایه یہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ کہتے ہوئے داخل ہوئے ) کہ رسول اللہ ﷺ کے حج