صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 535
صحيح البخاري - جلدم ۵۳۵ ۴۷- كتاب الشركة ٢٥٠٤ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۲۵۰۴ ابو النعمان نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن جَرِيْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے نضر بن انس سے ، نضر نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے ابْنِ أَنَس عَنْ بَشِيْرِ بْن نَهَيْكَ عَنْ حضرت ابو ہریرہ نہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اگر کسی شخص کا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ کسی غلام میں حصہ ہو اور وہ اپنا حصہ آزاد کر دے تو غلام شقْصًا لَّهُ فِي عَبْدِ أُعْتِقَ كُلَّهُ إِنْ كَانَ سارے کا سارا آزاد کر دیا جائے۔بشرطیکہ آزاد کرنے لَهُ مَالٌ وَإِلَّا يُسْتَسْعَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ والے کے پاس اتنامال ہو (جو باقی حصہ داروں کو ادا کیا جا سکتا ہو ) ور نہ غلام سے اتنی محنت کرائی جائے جس کا عَلَيْهِ۔اطرافه ٢٤٩٢، ٢٥٢٦، ٢٥٢٧ وہ متحمل ہو سکے (اور اس سے بقیہ قیمت ادا ہو۔) تشریح : الشركة في الرقيق : روایت نمبر ۲۵۰۴۰۲۵۰۳ زیرباب گزر چکی ہیں۔دیکھئے روایت نمبر ۲۴۹ ۲۴۹۲ جب تک ملکیت نہ ہو، کوئی شخص غلام آزاد کرنے کا مجاز نہیں۔اسی اصل سے بطور لازمی نتیجه مسئلہ معنونہ اخذ کیا گیا ہے۔واقعہ مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے ، غلام میں شرکت جائز ہے۔باب ١٥: اَلاِشْتِرَاكُ فِي الْهَدْيِ وَالْبُدْنِ ( یہ باب ) قربانی کے جانوروں اور اونٹوں میں شراکت ( کے بارے میں ہے ) وَإِذَا أَشْرَكَ الرَّجُلُ رَجُلًا فِي هَدْيِهِ نیز اس بات کا بیان کہ ) اگر کوئی شخص ( مکہ کی طرف) قربانی ( بھیج ) دینے کے بعد کسی اور کو اس بَعْدَ مَا أَهْدَى۔میں شریک کرے ( تو اس کا کیا حکم ہے۔) ٢٥٠٥-٢٥٠٦: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ۲۵۰۵-۲۵۰۶: ابوالنعمان نے ہمیں بتایا کہ حماد بن زید حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک بن جریج نے ہمیں بتایا۔عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابر سے روایت جَابِرٍ وَعَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کی۔نیز طاؤس سے ، طاؤس نے حضرت ابن عباس میلے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا قَدِمَ النَّبِيُّ سے روایت کی۔اُن دونوں نے کہا: نبی ﷺ اور آپ