صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 534
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۳۴ ۴۷- كتاب الشركة وغیرہ اور عروض یعنی اثاثہ وغیرہ۔ سامان سفر میں شرکت کی صورت بلحاظ اندازہ معین استفاده و تقسیم محفوظ نہیں جیسا کہ اجناس میں ہے۔ اس لئے ان کی نسبت رائے کا اختلاف ہے۔ مسائل میں فقہاء کی غایت درجہ احتیاط دراصل نتیجہ ہے اس شعور تقویٰ کا جو اسلامی تربیت کا لازمی نتیجہ ہے۔ بعض وقت تزکیۂ نفس کا وہم غالب آجاتا ہے۔ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اس لئے امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے گندم اور میوہ جات کی متماثل اشیاء میں بھی شرکت جائز قرار دی ہے۔ اسی اختلاف رائے کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۶۲ ) وَيُذْكَرُ أَنَّ رَجُلًا سَاوَمَ شَيْئًا فَغَمَزَهُ آخَرُ : حضرت عمرؓ کا واقعہ سعید بن منصور سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ تجارت کی کسی شئے کا بھاؤ ٹھہرا رہا ہے۔ ایک اور شخص نے جو بوقت بیچ وہاں موجود تھا، اُسے اشارہ کیا اور اس نے وہ خرید لی حضرت عمرؓ اس اشارے سے سمجھ گئے کہ وہ شخص شریک تجارت ہے۔ امام مالک کی بھی یہی رائے ہے کہ اگر دو شخص کسی سامان کی فروختگی روحی گی کے وقت م موجود ہوں اور ان میں اسے سے ایک ایک شخص حص بھاؤ بھاؤ ٹھہرا کر خرید لے تو دوسرا شخص جو بائع کا شریک ہو اور بیع کے وقت موجود رہا ہو، وہ نفع نقصان دونوں میں شریک ٹھہرے گا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۶۸) مندرجہ بالا روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعا کی وجہ سے زہرہ بن معبد کو ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام اس غرض سے منڈی میں لے جاتے تھے کہ دعائے نبوی کی برکت سے ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو۔ چنانچہ اس میں برکت ہوتی اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ بچ جاتا ۔ کا بوجھ غلہ بچ جاتا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر بھی ان کے ساتھ برکت حاصل کرنے کے لئے تجارت میں شریک ہو جاتے تھے۔ مذکورہ بالا روایت کے دونوں حصے ایک ہی سند سے مروی ہیں۔ بَاب ١٤ : الشَّرِكَةُ فِي الرَّقِيقِ غلام یا لونڈی میں شرکت کا بیان ٢٥٠٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۵۰۳ : مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ظل صل الله علیہ (عبد الله بن عمر سے، انہوں نے نبی ﷺ سے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ عنهما صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ روایت کی۔ آپ نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں اپنے حصہ کو آزاد کر دیا تو اس پر واجب ہے کہ اس کو پورے شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ وَجَبَ عَلَيْهِ أَنْ طور پر سارا آزاد کرائے۔ بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال يُعْتِقَ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ قَدْرُ ثَمَنِهِ ہو جو اُس کی قیمت کے برابر ہو۔ اور غلام کی منصفانہ طور يُقَامُ قِيْمَةَ عَدْلٍ وَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ بِرقیمت لگائی جائے اور اس میں جو شریک ہوں انہیں ان حِصَّتَهُمْ وَيُخَلَّى سَبِيْلُ الْمُعْتَقِ۔ کا حصہ دے دیا جائے اور آزاد کردہ غلام کو جانے دیں۔ اطرافه: ۲۴۹۱ ، ۲۵۲۱ ، ٢٥۲۲ ، ٢٥٢٣، ٢٥٢٤، ٢٥٢٥، ٢٥٥٣۔