صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 533 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 533

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۳۳ ۴۷- كتاب الشركة فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ اناج خریدتے اور حضرت ( عبداللہ ) بن عمر اور الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَيَقُوْلَانِ لَهُ : حضرت عبد اللہ ) بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے أَشْرَكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ملتے اور ان سے کہتے : ہمیں بھی شریک کرلیں کیونکہ وَسَلَّمَ قَدْ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيَشْرَكُهُمْ في صلى الله عليه وسلم۔ اللہ علیہ وسلم نے آپ کو برکت کی دعا دی فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ ہے۔ چنانچہ وہ ان کو بھی شریک کر لیتے۔ کبھی ایک بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ ۔ پورا اُونٹ لدا لدایا ویسا کا ویسا نفع میں اسے گھر بھیج دیتے ۔ پاتے اور { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: جب ایک شخص لِلرَّجُلِ أَشْرِكْنِي فَإِذَا سَكَتَ يَكُونُ (دوسرے شخص سے کہے ) کہ مجھے بھی شریک کرلو اور شَرِيكُهُ بِالنِّصْفِ } اطراف الحدیث ۲۵۰۱ ۷۲۱۰ اطراف الحدیث ۲۵۰۲: ٦٣٥٣۔ وہ خاموش رہے تو وہ نصف کا شریک ہوگا ۔ } تشريح : الشَّرِكَةُ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ : عنوان باب میں حضرت عمر کےواقعہ کا حال دے کرمسئلہ معنونہ کا مفہوم متعین کیا ہے۔ شراکت کے لئے ضروری نہیں کہ معین الفاظ میں اس کا اظہار کیا جائے۔ ایک شخص اشارہ سے بھی شریک سمجھا جاسکتا ہے۔ اجناس خوراک اور دیگر اشیاء میں بھی شراکت ہو سکتی ہے۔ جمہور کا یہ مذہب ہے کہ ہر شئے جو کسی کی ملکیت ہو، اس میں شراکت درست ہے۔ مگر شافعیوں کے نزدیک صرف مماثل اجناس میں جائز ہے اور باقی املاک میں جو از قسم عروض ہوں، ان میں شراکت درست نہیں۔ بطور قاعدہ کلیہ شراکت ان اشیاء میں جائز نہیں مجھی گئی جو ماپ تول اور قیمت کے لحاظ سے مختلف ہوں مگر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے غلہ جات میں بھی شراکت مکروہ قرار دی ہے اور امام شافعی کے نزد یک سامان از قبیل عروض فروخت کر کے مشتری ضرورت کی نئے مثلاً گھوڑ ا خرید سکتا ہے اور گھوڑے کی خرید میں شراکت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح امام شافعی کہتے ہیں: لَا تَجُوزُ الشَّرِكَةُ فِي كُلِّ مَا يَرْجِعُ فِي حَالِ الْمُفَاضَلَةِ إِلَى الْقِيمَةِ إِلَّا أَنْ يَبِيعَ نِصْفَ عَرْضِهِ بِنِصْفِ عَرْضِ الْآخَرِ ۔ یعنی سکہ ہائے مبادلہ چونکہ ہم مثل ہوتے ہیں اور کمی بیشی کا اندیشہ نہیں، اس لئے ان میں شراکت جائز ہے۔ اور جن کی قیمت میں کمی بیشی کا اندیشہ ہو ان میں جائز نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۶۸) (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۶۲ ) فقہاء کی اصطلاح میں مثلیات سے مراد اجناس خوراک جو ایک دوسرے کا بدل ہو سکتی ہوں مثلا لے کا بدل ہو سکتی ہوں مثلاً گندم، جو ہئی، باجرہ یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ اور عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔ (فتح الباری جزء ۵۰ حاشیہ صفحہ ۱۶۷) (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحه ۶۴)