صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 531 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 531

صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۳۱ ۴۷- كتاب الشركة وَمَا يَكُونُ فِيهِ الصَّرْفُ : یعنی ایسے سکوں کے ذریعے سے شراکت جو ذریعۂ مبادلہ ہوں ۔ دینار کا درہم سے اور درہم کا دینار سے تبادلہ ہو لیکن خالص سونے اور کھوٹے دینار کی شراکت یا خلطت کے بارے میں اختلاف ہے۔ اکثر فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ شراکت کے کے لئے مماثل معیاری سکے چاہئیں۔ (عمدۃ ا ں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۶۰) حضرت براء بن عازب کی مذکورہ بالا روایت کے لئے کتاب البیوع باب ۸ روایت نمبر ۶۰ ۲۰-۶۱ ۲۰ دیکھئے۔ بَاب ۱۱ : مُشَارَكَةُ الذِّمِّيِّ وَالْمُشْرِكِينَ فِي الْمُزَارَعَةِ کھیتی باڑی میں زمیوں اور مشرکوں کو شریک کرنا ٢٤٩٩: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۲۴۹۹: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے سے بیا بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا نے خیبر کی زمین یہودیوں کے حوالہ کر دی کہ وہ اس میں محنت کریں اور اس میں کاشت کریں اور جو اس وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ۔ سے پیدا ہو، اس کا آدھا ان کا ہوگا۔ تشريح : مُشَارَكَةُ الدِّمِّيِّ وَالْمُشْرِكِينَ فِي الْمُزَارَعَةِ: بعض فقہاء نے ذمی اور شرک کی شراکت کے بارے میں یہ پابندی عائد کی ہے کہ مشترکہ کاروبار میں مسلم کی موجودگی اور نگرانی ضروری ہے کہ کہیں نا جائز إطرافه ۲۲۸۵، ۲۳۲۸، ۲۳۲۹، ۲۳۳۱، ۲۳۳۸، ٢۷۲۰، ٣١٥٢، ٤٢٤٨۔ بات شراکت میں شامل نہ کر دی جائے ۔ اسی وجہ سے امام ثوری، امام لیث ، امام احمد بن حنبل اور امام مالک کے نزدیک ان کی شراکت جائز نہیں۔ مثلاً سودی کاروبار غیر مسلموں کے نزدیک حرام نہیں۔ اب اگر کاروبار ان پر چھوڑا گیا تو اس کا روبار میں کئی ایسے طریق اختیار کئے جاسکتے ہیں، اسلام نے جن کی اجازت نہیں دی۔ عنوان باب اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کی غرض فِي الْمُزَارَعَة سے محدود کیا گیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۶۷) اس تعلق میں تشریح روایا۔ زیر باب ۱۰۰۹ بھی دیکھئے۔ بَاب ۱۲ : قَسْمُ الْغَنَمِ وَالْعَدْلُ فِيْهَا بکریوں کی تقسیم اور اس میں انصاف ( کا بیان ) ٢٥٠٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۵۰۰ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيْبٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے،