صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 530 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 530

صحيح البخاری جلدم ۵۳۰ ۴۷ - كتاب الشركة بَاب ١٠ : الاِشْتِرَاكُ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَا يَكُوْنُ فِيْهِ الصَّرْفُ سونے اور چاندی اور اُن چیزوں میں شراکت جن کا تعلق بیع صرف ( یعنی نقد ) سے ہو ٢٤٩٧ - ٢٤٩٨ : حَدَّثَنِي عَمْرُو ۲۴۹۷-۲۴۹۸: عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ ابْنَ عَلِي حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عُثْمَانَ سے بیان کیا کہ ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے يَعْنِي ابْنَ الْأَسْوَدِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عثمان یعنی ابن اسود سے روایت کی۔انہوں نے کہا: سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سليمان بن ابی مسلم نے مجھے بتایا۔کہتے تھے: میں أَبَا الْمِنْهَالِ عَنِ الصَّرْفُ يَدًا بِيَدِ فَقَالَ نے ابوالمنہال سے اس بیچ صرف کے بارے میں پوچھا جو ہاتھوں ہاتھ ہو۔انہوں نے کہا: میں نے اور اشْتَرَيْتُ أَنَا وَشَرِيْكَ لِي شَيْئًا يَدًا بِيَدِ میرے ایک شریک نے کوئی چیز کچھ نقد خریدی اور کچھ وَنَسِيْنَةٌ فَجَاءَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ اُدھار۔اتنے میں حضرت براء بن عازب ہمارے فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: فَعَلْتُ أَنَا وَشَرِيكي پاس آئے۔ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ میں نے اور میرے شریک زید بن ارقم " نے بھی ایسا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: مَا كَانَ کیا تھا اور ہم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَدًا بِيَدِ فَخُذُوهُ وَمَا كَانَ نَسِيْئَةٌ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: جو ہاتھوں ہاتھ ہو فردوه۔اسے تو تم لے لو اور جواُدھار ہو اُسے چھوڑ دو اطرافه: ٢٠٦٠- ۲۰۶۱، ۲۱۸۰ - ۲۱۸۱، ۳۹۳۹- ۳۹۹۰ تشریح: الاِشْتِرَاكُ فِى الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ : درہم و دینار کے ذریعہ سے شراکت یا خلطت فقہاء کے نزدیک جائز ہے۔نرخ مبادلہ کے حساب سے ہر شریک کا حصہ متعین ہو کر مشترکہ سرمایہ سے کاروبار کسی ایک شریک کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔لیکن امام مالک اور امام شافعی اور فقہائے کوفہ کے نزدیک شراکت و خلطت میں ایک ہی جنس ( چاندی یا سونا ) بطور معیار مبادلہ اختیار کرنا ضروری ہے۔حتی کہ امام شافعی نے خوردہ کا اختلاف بھی پسند نہیں کیا تا شراکت میں کسی قسم کا تفاوت نہ ہو، ہتا کھوٹا کھرے سے نہل جائے۔امام ثوری کے نزدیک اختلاف جنس سے بھی شراکت ہو سکتی ہے؛ اگر انداز ہ جنس درست ہو۔علامہ ابن حجر کا خیال ہے کہ امام بخاری کا رجحان بھی اسی رائے کی طرف ہے۔اس لئے عنوانِ باب میں الفاظ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ اختیار کئے گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۶۶) عمدۃ القاری میں " فَرُدُّوهُ" کی بجائے "فَذَرُوهُ" کا لفظ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۳۰ صفحه ۶۱)