صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 524 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 524

صحيح البخاری جلدم ۵۲۴ ۴۷- كتاب الشركة امام ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ اور اکثر فقہاء نے تقسیم بذریعہ قرعہ اندازی جائز قرار دی ہے۔یہ طریق قدیم سے رائج رہا ہے۔قرآن مجید حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر میں فرماتا ہے: فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ۔(الصافات:۱۴۲) تب انہوں نے (کشتی کے باقی سواروں سے مل کر ) قرعہ اندازی کی اور ان کے نام کا قرعہ نکلنے پر وہ بھی چھینکے گئے۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت علیہ بوقت سفر قرعہ اندازی کرتے اور جس بیوی کے نام کا قرعہ نکلتا، وہ آپ کے ہم سفر ہوتی تھیں۔(کتاب الشهادات باب ۱۵ روایت نمبر ( ۲۶۶) اور حضرت ام العلاء سے مروی ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں انصار نے مہاجرین کو اپنے پاس ٹھہرانے کے لئے قرعے ڈالے تو حضرت عثمان بن مظعون کا قرعہ نکلا کہ وہ ہمارے پاس رہیں گے۔(روایت نمبر ۷ ۲۶۸) اس ثابت شدہ سنت نبوی کے پیش نظر مشار الیہ فقہاء کا قیاس درست نہیں کہ قرعہ اندازی بذریعہ تیر کی رسم کا تعلق صرف مشرکانہ عقائد سے تھا، جس کی وجہ سے یہ بھی فستقی اور رجس والی باتوں میں شمار کی جائے۔(عمدۃ القاری جز ۳ ۱ صفحه (۵۶) علامہ عینی نے قاضی اسماعیل کا قول بھی نقل کیا ہے کہ اگر زمین یا مکان میں چند شریک ہوں تو وہ اس کی قیمت کا اندازہ کریں اور پھر قرعہ ڈالیں۔جس کے نام قرعہ نکلے، اسے وہ چیز دیں اور قیمت بحصہ رسدی باقی شرکاء میں تقسیم کریں۔لَيْسَ فِي الْقُرْعَةِ إِبْطَالُ شَيْءٍ مِنَ الْحَقِّ۔قرعہ اندازی سے کوئی حق باطل نہیں ہو جاتا کہ یہ ممنوع قرار دی جائے بلکہ جھگڑا ختم ہوتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۵۶) بَابِ : شَرِكَةُ الْيَتِيمِ وَأَهْلِ الْمِيْرَاثِ یتیم کا ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا جو دراشت کے مستحق ہیں ٢٤٩٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۲۴۹۴ عبدالعزیز بن عبدالله عامری اویسی نے عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے عَائِشَةَ رَضِيَ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عن قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ روایت کی۔(انہوں نے کہا: ) عروہ نے مجھے بتایا کہ اللَّهُ عَنْهَا وَقَالَ اللَّيْثُ : انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔اور لیث نے بھی کہا: یونس نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ قَوْلِ اللهِ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ إِلَى وَرُبعَ میں پوچھا: وَانُ خِفْتُمْ (حضرت عائشہ نے) کہا: