صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 523
صحيح البخاری جلدم ۵۲۳ ۴۷- كتاب الشركة عَلَى مَنْ فَوْقَهُمْ فَقَالُوْا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا کے درجہ میں تھے۔پھر انہوں نے کہا: اگر ہم اپنے ہی فِي نَصِيْنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا درجہ میں ایک سوراخ کر لیں اور جو اوپر کے درجہ میں فَإِنْ يَتْرُكُوْهُمْ وَمَا أَرَادُوْا هَلَكُوا ہیں اُن کو تکلیف نہ دیں ( تو بہتر ہوگا۔) اب اگر او پر جَمِيعًا وَإِنْ أَخَذُوْا عَلَى أَيْدِيْهِمْ نَجَوْا کے درجہ والے انہیں وہ بات جس کا انہوں نے ارادہ کیا ہے، کرنے دیں تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں وَنَجَوْا جَمِيْعًا۔طرفة: ٢٦٨٦۔گے اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی نجات پا جائیں اور دوسرے بھی سب نجات پا جائیں۔تشريح : هَلْ يُقْرَعُ فِي الْقِسْمَةِ وَالِاسْتِهَام فيه : مال واسباب جو از تم عرض ہوں ان کے حص شرکت کی تقسیم بعض وقت قرعہ اندازی سے کرنی پڑتی ہے کیونکہ ان کی قیمت کا اندازہ مشکل ہوتا ہے یا ان میں سے بعض اشیاء قابل تقسیم نہیں ہوتیں اور قیمت کا اندازہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ایسی صورت میں بذریعہ قرعہ جس شریک کا نام نکلے، اسے وہ دی جائیں اور ان کی قیمت کے اندازے پر اس سے دوسرے شرکاء کو بحصہ رسدی نقد قیمت دلائی جائے۔قرعہ اندازی سے تنازعہ کا سد باب مقصود ہوتا ہے۔جیسا کہ کشتی کی مثال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔یہ حدیث کتاب الشهادات باب ۳۰ روایت نمبر ۶ ۲۶۸ میں بھی منقول ہے۔السَّهُمُ کے معنی ہیں حصہ اور انتھم کے معنی ہیں حصہ لیا۔لفظ سهم مشتر کہ اشیاء میں حصہ پر دلالت کرتا ہے۔عنوان باب بصورت استفتاء ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ قرعہ کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔بعض فقہاء کوفہ نے تیر کے ذریعے تقسیم والے قدیم طریق پر قیاس کر کے قرعہ اندازی ناجائز قرار دی ہے۔زمانہ جاہلیت میں مشرکین عرب بتوں کی قربانی، نذرونیاز وغیرہ بذریعہ تیر تقسیم کرتے تھے۔چند نشان شدہ تیر ترکش میں ہوتے۔ہر نشان ایک معین اندازے کا ہوتا۔حصہ دار کسی تیر پر ہاتھ لگاتے اور اسے نکال کر پھر اس نشان کے مطابق گوشت و غیر تقسیم کیا جاتا۔اس تیر کا نام زلم رکھا گیا تھا۔قرآن مجید نے یہ مشرکانہ طریق تقسیم ممنوع قرار دیا ہے۔فرماتا ہے: وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصْبِ وَانْ تَسْتَقْسِمُوا بِالاَزْلَام ذَلِكُمْ فِسْق۔(المائدہ:۴) یعنی ( تم پر حرام کیا گیا ہے ) وہ جانور بھی جو بت کدہ پر ذبح کیا جائے اور تیروں کے ذریعہ تقسیم بھی۔یہ نافرمانی کی باتیں ہیں۔دوسری جگہ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائده :9) اے مومنو! شراب اور جوا اور بت اور قرعہ اندازی کے تیر محض نا پاک باتیں اور شیطانی کام ہیں ؛ سو تم ان سے بچو تاتم کامیاب ہو۔عربی میں سہم کے معنی بھی تیر کے ہیں، مگر زلم خاص مشر کا نہ تقسیم کا تیر تھا۔عنوان باب میں کسی خاص شئے کی تقسیم کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ الفاظ فِی الْقِسْمَةِ سے مطلق تقسیم بذریعہ قرعہ کا سوال اُٹھا کر اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔