صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 509 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 509

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۰۹ ۴۶ - كتاب المظالم جانب ایرانی آتش کدہ میں بوالہوسی شعلہ زن ۔ یہی حال ہندوستان کے براہمہ اور چین کے بھکشوؤں کا تھا۔ صنم پرستی اور ابا پرستی ان کا مت ، عقل و خرد سے کورے، جہالت و توہمات کے پجاری، خدا پرستی بے نام و نشان ، ہر جگہ ہوں و شہوات نفس نے اشرف المخلوقات کو بام شرافت و انسانیت سے گرا کر شودر اور بھکشو بنا دیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کی سیاسی دنیا کا حال اس سے بھی ، ، ی ابتر ، ہر جگہ لا قانونیت اور ظلم و جور کا دور دورہ ، رومانی حکومت کے پاس ایک قانونچہ تو تھا۔ قانونچہ تو تھا لیکن جس کی وقعت و وقعت دفتر پارینه اور گم کرده استقامت جو اپنی معنوی اور تنقیدی طاقت سے محروم بلکہ قیاصر اور امرائے سلطنت - سلطنت کے ہاتھوں میں ظلم و تعدی کا شاہکار اور اس پر مستزاد یہ کہ ساری سلطنت ریختگی اور بوسیدگی کے کنارے پر ڈگمگارہی تھی۔ وہ شرقی اور غربی دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔ خانہ جنگیوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے برسر پیکار اور پادریوں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں بازیچہ ظلم و ستم مذہبی اور ہوس پرست عیار ایک سلطنت کو دوسری سلطنت کے خلاف چمکانے اور بھڑکانے میں مصروف اور رعایا کے مظلوم جہالت و ضلالت سے پامال اور ظلم و ستم سے نڈھال بلکہ اس سے بدتر حال اکا سر اور دھا قین کے ہاتھوں با جگزار ایرانی رعایا کا تھا اور ارض حجاز کی چوتھی طرف حبشہ کا ملک جس میں نسبتا امن و امان تھا مگر اس کی دنیا بالکل نرالی۔ جہاں جادوگری کا زور اور صلیب پرستی کے اوہام اور رہبانیت کا دور دورہ ۔ قوم احباش ان دونوں کے تحت مجبور و ناچار۔ غرض حجاز کی سرزمین جو خود امیت اور جہالت میں شہرہ آفاق تھی اس کے چاروں اطراف دور و نزدیک میں ظلم وجور کی تاریکیاں ہی تاریکیاں تھیں۔ جس کا نقشہ مختصر مگر نہایت فصیح اور بلیغ الفاظ سے سورہ نور کی محولہ بالا آیات میں کھینچا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَوْ كَظُلُمْتٍ فِي بَحْرٍ أُخِي يَغْشَهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْيَرهَا وَمَنْ لَّمْ : كدْ يَرْهَا وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّورِ (النور:(۴) اُن کی حالت ان تاریکیوں جیسی ہے جو ایک گہرے سمندر پر چھائی ہوں۔ جس پر لہریں اٹھ رہی ہوں اور ان لہروں پر اور لہریں اٹھ رہی ہوں اور ان سب پر گہرا بادل ہو۔ ایسی تاریکیاں کہ ایک دوسرے کے اُو پر تہ بہ تہ ہیں۔ جب انسان اپنا ہاتھ نکالے تو باوجود کوشش کے اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اور جس کے لئے اللہ نور نہ پیدا کرے، اس کو کہیں سے نور نہیں ملتا۔ ایسی تاریک دنیا میں جہاں سابقہ شریعتوں کی راہنمائی بے نور اور جس کے ساتھ عقل و شعور کا نور مفقود ۔ جہاں شہوات نفسانیہ امواج متلاطم کی طرح نوع بشر کو چاروں طرف سے اپنے نرغہ میں لئے ہوئے ایسی تیرہ و تار دنیا اور ارض حجاز جیسے ظلمت کدہ میں ایک چراغ جلایا گیا جو کو کب دری کی طرح فاران کی چوٹی سے سابقہ پیشگوئی کے مطابق جلوہ گر ہوا۔ وہاں وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے داہنے ہاتھ میں بنی نوع انسان کے لئے ایک آتشی شریعت جو ظلم اور مظالم کو خس و خاشاک کی طرح جلا دینے والی۔ (استثناء: باب ۳۳ آیت (۲) جیسا کہ نوشتہ میں فرمایا گیا تھا پورا ہوا ۔ اندھوں کو اُس راہ سے جسے وہ نہیں جانتے، لے جاؤں گا۔ میں ان کو ان راستوں پر جن سے وہ آگاہ نہیں، لے چلوں گا۔ میں ان کے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دوں گا ۔“ (یسعیاد (یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱۶) جہاں ط