صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 508 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 508

صحيح البخاری جلدم ۵۰۸ ٤٦- كتاب المظالم میں عقلاً تصور کیا جا سکتا ہے۔وہ ظلم کے اس تصور سے خارج ہے جو مذکورہ بالا کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔عدل و انصاف کی میزان میں ایک خفیف سا جھکاؤ بھی ظلم کے معنی میں شامل ہے اور ذہن انسانی کی ہر شائبہ ظلم سے بکلی تطہیر محوظ رکھی گئی ہے۔نفس بشریہ اور انسانی دل و دماغ کا گوشہ گوشہ ظلم کے سمجھنے میں روشن کیا گیا ہے اور بصیرت افروز کامل رہنمائی سے ماحول بشری کا کونہ کونہ منورکیا گیا ہے کہ ظلم کی خفیف سی آہٹ بھی نفس کے باطن و خارج میں گوارا نہیں کی گئی۔کیونکہ خفیف ساظلم بھی نور قلب زائل کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔نظم کی تعریف میں جس طرح بڑے سے بڑے موجبات مثل تعصب دینی اور جنبه داری قومی طمع و حرص و غیرہ کو اہمیت دی گئی ہے اس طرح ادنیٰ سے ادنی بواعث و احتمالات ظلم تک بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیئے گئے اور ان کے علاج وازالہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔لفظ ظلم و ظالم اور مظلمہ اور مظالم کا اشتقاق ظلمت یعنی تاریکی سے ہے اور بتایا گیا ہے کہ جہالت اپنے وسیع معنوں میں ایسی تاریکی ہے جو اپنے اور بے گانہ کی تمیز منادیتی ہے۔جس طرح اندھیرا چھا جانے پر قوت شناخت کام نہیں دیتی اور تاریکی کی شدت میں نور نظر غائب ہو جاتا ہے۔یہی حال ظالم کا ہے کہ وہ اپنے اور بے گانہ حق و ناحق کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ظلم کی تعریف اور اس کی حقیقت خود اس کے اس نام میں مضمر اور پنہاں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس بشری کے اندر اور باہر ان تمام جگہوں اور موقعوں سے ہمیں روشناس کرایا ہے جن میں خفیف سی تاریکی پیدا ہونے کا بھی احتمال ہے اور آپ کے مبارک ہاتھوں سے ایسا چراغ روشن کیا گیا ہے؛ جس نے کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں چھوڑی بلکہ سورہ نور کی آیات میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود ہی چراغ سے تعبیر کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يُشَاءُ۔(النور:۳۶) گویا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے جو مبارک درخت کے تیل سے روشن ہوتا رہے گا۔وہ تیل نہ شرقی ہے نہ غربی۔قریب ہے اس کا تیل خواہ اسے آگ نہ بھی چھوئے خود بخود بھڑک اُٹھے۔نور ہی نور ہے۔اللہ جسے چاہے گا اس کے ذریعہ سے اپنے نور کی طرف راہنمائی کرے گا۔فقرہ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ سے زمانہ بعثت نبویہ سے قبل آپ کے نور فطرت کی طبعی حالت مراد ہے اور زمانہ بعثت کے بعد جب آپ کو شدید ابتلاؤں کا سامنا ہوا تو آپ کا نور فطرت زیادہ سے زیادہ چمکا اور روشن تر ہوتا چلا گیا ؟ یہاں تک کہ آپ میں انوار الہیہ کی شان بکمال ظاہر ہو کر دوسروں کی ہدایت کا باعث ہوئی۔چنانچہ اس آیت کے بعد صحابہ کرام کے انوار محمد ید سے منور ہونے کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ یہ چراغ اپنے اندر کن انوار قدسیہ کی تاثیر رکھتا ہے اور اس کے بعد زمانے کی حالت بیان کی گئی ہے۔پہلے تمثیلاً ان قوموں کا ذکر فرمایا ہے جن کے پاس شریعت تھی کہ وہ سراب بن کر رہ گئی۔چنانچہ فرمایا: يَحْسَبُهُ الظَّمَانُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا (النور:۴۰) که پیاسا خیال کرتا تھا کہ وہاں پانی سے اپنی پیاس بجھائے گا مگر اس کا یہ خیال فریب نظر سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ایک طرف بیت المقدس کے ہیکل میں سوختنی قربانیوں کا نرا ڈھانچہ جونور ایمان اور صحت عقیدہ سے قطعا خالی، رسومات کی تاریکیاں جگہ جگہ ماتم کناں تھیں۔اور دوسری طرف عیسائی کلیساؤں میں لاہوت و ناسوت کے فرسودہ مناقشات سے مسیحی دنیا پارہ پارہ۔اور تیسری