صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 507
البخاري - جلد ۵۰۷ ٤٦ - كتاب المظالم جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ وَكَسَرُوْا صَوْمَعَتَهُ کہنے لگی: یہ جریج کا ہے۔یہ سن کر لوگ اس کے پاس وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوْهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى آئے اور اُس کا عبادت خانہ توڑ پھوڑ دیا۔اُس کو نیچے الْغُلَامَ فَقَالَ: مَنْ أَبُوكَ يَا غُلَامُ؟ قَالَ: اُتارا اور اُسے گالیاں دیں۔اُس نے وضو کیا۔نماز الرَّاعِي۔قَالُوا: نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ پڑھی اور اُس کے بعد اُس بچے کے پاس آیا اور اُس نے پوچھا: بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ اُس نے کہا: چرواہا۔لوگوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنا دیتے ہیں۔اُس نے کہا نہیں مٹی کا ہی بنا دو۔ذَهَبٍ۔قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ طِيْنٍ۔اطرافه: ١٢٠٦، ٣٤٣٦، ٣٤٦٦ تشریح : إِذَا هَدَمَ حَائِطًا فَلْيَبْنِ مِثْلَهُ: مسئلہ معنونہ کے بارے میں امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ دیوار وغیرہ گرانے کی یہی سزا کافی ہے کہ اس کے بنوانے کے اخراجات گرانے والا ادا کرے۔اگر وہ خود اس کے بنوانے کی ذمہ داری لے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔اس فتویٰ کے یہ الفاظ ہیں : لَا يَجُوزُ لِاَنَّهُ فَسْخٌ لِمَا وَجَبَ نَاجِزًا وَهُوَ الْقِيْمَةُ إِلَى مَا يَتَأَخَّرُ وَهُوَ الْبَنْيَانُ۔یعنی گرانے والے کو اجازت دینا درست نہیں کیونکہ یہ اجازت اس واجب الاداء تاوان کو فسخ کر دے گی، جس کی نقد ادائیگی کا فیصلہ ہوا ہے، ایسے امر کے لئے جو بعد کو کیا جاتا ہے، یعنی تعمیر جس کی نسبت یقینی بات نہیں کہ وہ کب ہوگی یا اگر ہو تو کس صورت میں ہوگی ؟ ناقص یا مکمل۔جمہور کے نزدیک دیوار کو اگر گرانے والا ویسی بنا دے جیسی کہ وہ تھی تو جائز ہوگا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۵۷) امام مالک کے مذہب کی رو سے احتیاط کا پہلو غالب ہے اور جمہور کے مذہب میں ازالہ ظلم کے لئے سہولت کا پہلو مد نظر ہے۔لیکن جو واقعہ مذکورہ بالا روایت میں بیان ہوا ہے اس میں گرانے والے لوگ سونے کا گر جابنانے کے لئے تیار تھے اور جریج نے کہا: نہیں (مِنْ طِینِ) گارے مٹی کا ہی بنے گا جیسا کہ پہلے تھا۔یہاں بعض شارحین نے سوال اٹھایا ہے کہ واقعہ مذکورہ اسرائیلی قوم سے تعلق رکھتا ہے جو ہمارے لئے حجت نہیں اور اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بنظر استحسان بیان فرمایا ہے؛ اس لئے جو اچھا سبق اس سے حاصل ہوتا ہے وہ ہمارے لئے قابل قبول اور قابل عمل ہے۔امام بخاری نے ان ابواب میں ایسے مظالم کی صورتیں بیان کی ہیں جن کا تدارک انسان خود کر سکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۵۷) (عمدۃ القاری جز ۱۳۶ صفحه ۳۹) کتاب المظالم کے خاتمہ پر یہ امر خصوصیت سے قابل توجہ ہے کہ ظلم کی تعریف جو اسلام نے کی ہے وہ اتنی لطیف اور وسیع تعریف ہے کہ حیات انسانی کے تمام پہلوؤں اور معاشرہ بشریہ کے سارے تعلقات پر حاوی ہے۔ظلم کی اسلامی تعریف، اس کا تصور انفرادی اور اجتماعی دونوں قسم کے حقوق پر مشتمل ہے اور معاشرہ بشریہ کے داخلی و خارجی امن کی ضامن کفیل ہیں۔حقوق میں ایک ادنی سا خلل بھی اس تعریف سے باہر نہیں رہتا اور نہ کوئی رخنہ جور وابط اجتماعیہ میں سے کسی رابطہ