صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 506 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 506

صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۰۶ ۴۶ - كتاب المظالم تشريح : إِذَا كَسَرَ قَصْعَةً أَوْ شَيْئًا لِغَيْرِهِ : اس باب میں آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کا اسوہ نہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے نقصان پورا کیا اور اگر آپ تلافی نہ بھی کرتے تو وہ ایک گھریلو معاملہ تھا۔ مگر آپ صلى الله نے یہ ایک معمولی سا نقصان بھی گوارا نہیں فرمایا۔ امام بیہقی کے مطابق دونوں پیالے خود آ خود آنحضرت ﷺ کی ملکیت تھے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں: بِأَنَّ الْقَصْعَتَيْنِ كَانَتَا لِلنَّبِيِّ الله فِي بَيْتَى زَوْجَعَيْهِ۔ * ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۶ ۱۵۶) آپ نے ٹوٹا ہوا پیالہ جوڑ کر توڑنے والی بیوی کو دیا کہ وہ خود استعمال کرے اور اس کا سالم پیالہ دوسری بیوی کے گھر بھجوا دیا۔ جہاں سے کھانا بطور ہدیہ آیا تھا۔ روایت مندرجہ کیلئے کتاب النکاح باب ۰۷ اروایت نمبر ۵۲۲۵ بھی دیکھئے۔ بَاب ٣٥ : إِذَا هَدَمَ حَائِطًا فَلْيَبْنِ مِثْلَهُ اگر کوئی دیوار گرادے تو چاہیے کہ ویسی ہی بنا دے ٢٤٨٢ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۲۴۸۲ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، سِيْرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ: كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ بَنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا۔ اُسے جریج کہتے تھے۔ وہ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٍ يُصَلِّي فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ نماز پڑھ رہاتھا کہ اتنے میں اُس کی ماں آئی اور اس نے اس کو بلایا۔ اس نے اس کو جواب نہ دیا اور کہنے لگا: میں فَدَعَتْهُ فَأَبَى أَنْ يُجِيبَهَا فَقَالَ: أُجِيبُهَا اسے جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ کوئی اور اس نے أَوْ أَصَلِّي؟ ثُمَّ أَتَتْهُ فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا کہا: اے میرے اللہ! اسے نہ ماریو جب تک کہ تو اسے تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُؤْمِسَاتِ۔ کنچنیوں کا منہ نہ دکھا دے۔ او سچینیوں کا منہ نہ دکھا دے۔ اور جریج اپنے عبادت خانہ وَكَانَ جُرَيْجٍ فِي صَوْمَعَتِهِ فَقَالَتِ میں تھا۔ ایک عورت نے کہا: میں جریج کو ضرور بہکاؤں امْرَأَةٌ: لَأَفْتِنَنَّ جُرَيْجًا فَتَعَرَّضَتْ لَهُ گی۔ چنانچہ اس س نے اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور فَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ اُس سے باتیں کیں۔ وہ نہ مانا۔ وہ ایک چرواہے کے نَّفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ : هُوَ مِنْ پاس گئی اور اُس سے بدفعلی کی اور وہ ایک لڑکا جنی۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الغصب، باب ردّ قيمته ان كان من ذوات القيم، جزء ۶ صفحه ۹۶)