صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 497
صحيح البخاری جلدم ۴۹۷ ٤٦- كتاب المظالم تشریح : النَّهْبَى بِغَيْرِ اِذْنِ صَاحِبِهِ: النهبی، نَهَبَ سے اہم مصدر ہے یعنی لوٹ کھسوٹ۔ہونا تو اَلنَّهْبَى، بہر حال منع ہے۔باب میں دو قسم کی لوٹ کا ذکر کیا گیا ہے ایک وہ جس کی مالک اجازت دے۔مالک کی اجازت سے لوٹنا لٹوانا تو ایسا ہی ہے جیسے اعلان نکاح کے بعد چھوہارے، بادام، کشمش، الا بچگی دانے لٹوائے جاتے ہیں اور خوشی کے موقع پر بریانی وغیرہ کی دیگیں تیار کرا کر صلائے عام کیا جاتا ہے کہ جو چاہے جتنا چاہے کھائے۔النھی سے اس قسم کی لوٹ مراد ہے۔اور دوسری قسم کی لوٹ وہ ہے جس کی بابت بیعت میں اقرار لیا گیا تھا کہ لوٹ نہیں کی جائے گی۔عنوان باب میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کا حوالہ اس کوٹ کی طرف توجہ دلانے کے لئے دیا گیا ہے۔یہ روایت کتاب الایمان باب اروایت نمبر ۱۸ میں گزر چکی ہے۔بدوؤں کی عادت تھی کہ وہ ڈاکے ڈالتے اور انتقام لینے میں ناک، کان اور مختلف اعضاء کاٹ ڈالتے تھے۔اسلام میں ایسے مظالم کی قطعی طور پر ممانعت کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو ان کی روک تھام کے لئے بہت بڑی جدوجہد کرنی پڑی ہے۔اس باب کے تحت دو روایتیں ہیں۔دوسری روایت میں لوٹ مار ایمان کے منافی قرار دی گئی ہے۔کتاب الحدود میں حضرت ابن عباس سے اس حدیث کا یہ مفهوم مروی ہے : يُنْزَعُ مِنْهُ نُورُ الْإِيْمَانِ (بابا) کہ اُس سے ایمان کا نور نکال لیا جاتا ہے۔گویا اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ شادی وغیرہ کے موقعوں پر ٹوٹنے کی رسمیں بھی بدی کا بیج ہوتی ہیں اور ایسی باتیں پاکیزگی اور وقار نفس کے خلاف ہیں۔ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ عنوان باب جملہ اسمیہ بلاخبر رکھا گیا ہے۔جس سے پایا جاتا ہے کہ جن فقہاء نے مالک کی اجازت سے لوٹ کھسوٹ مباح قرار دی ہے؟ امام موصوف کے نزدیک ان کی رائے قابل قبول نہیں۔امام مالک اور فقہاء کی ایک جماعت نے بھی ایسی رسم کو مکروہ گردانا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۴۸) ابوداؤد نے بسند ابن جریج و حضرت جائر ، ابن حبان نے بسند حضرت عمران بن حصین بنا ترندی نے بسند حضرت انس ایک حدیث نقل کی ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں: مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا جس نے لوٹ کھسوٹ کی اُس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔امام احمد بن حنبل نے بھی بسند حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ ایک حدیث نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنِ النُّهْبَةِ۔صلى الله (مسند احمد بن حنبل، مسند الشاميين، بقية حديث زيد بن خالد الجهني، جز یہ صفحہ ۱۱۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوٹ سے روکا ہے اور ابن حبان سے بسند حضرت ثعلبہ بن حکم مروی ہے: قَالَ أَصَبْنَا غَنَمًا لِّلْعَدُوِ فَانْتَهَبْنَاهَا فَنَصَبْنَا قُدُورَنَا فَمَرَّ النَّبِيُّ له بِالْقَدُوْرِ فَأَمَرَبِهَا فَاكْفِتَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ النُّهْبَةَ لَا تَحِلُّ ہے یعنی ہم نے دشمن کی بکریاں لوٹیں اور ہانڈیاں چڑھا دیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہانڈیوں کے پاس سے گزرے اور اُن کی نسبت حکم دیا اور وہ اُنڈیل دی صلى الله (ابوداؤد، كتاب الحدود، باب القطع في الخلسة والخيانة) (ترمذی، كتاب النكاح، باب ما جاء في النهي عن النكاح الشغار) (صحیح ابن حبان، كتاب الغصب، ذكر الزجر عن انتهاب المرء مال أخيه المسلم، جزء اصفهیم ۵۷) (ترمذی، کتاب السير عن رسول الله الا الله باب ماجاء في كراهية النهبة) (سنن ابن ماجه ،کتاب الفتن، باب النهي عن النهبة) (صحيح ابن حبان، كتاب الغصب ، ذكر الزجر عن النهبة للأشياء التي لا يملكها المرء جزءا اصفحه ۵۷۳ )