صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 498
صحيح البخاری جلد ۴ و صلى الله و ۴۹۸ ٤٦- كتاب المظالم گئیں۔پھر آپ نے فرمایا: لوٹ کا مال جائز نہیں۔ابن ابی شیبہ نے بھی ایک اور صحابی کی ہم معنی روایت بسند عاصم بن کلیب نقل کی ہے: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ الله فِي غَرَاةٍ فَأَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ فَأَصَبْنَا غَنَمًا فَانْتَهَبْنَاهَا قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فِيْنَا فَآتَانَا النبي عنه۔مُتَوَكَّنًا عَلَى قَوْسٍ فَاكُفَأَ قُدُورَنَا بِقَوْسِهِ وَقَالَ لَيْسَتِ النُّهْبَةُ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ (عمدة القارى جزء ۱۳۰ صفحہ ۲۶) ایک غزوہ میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ہمیں بھوک کی تکلیف ہوئی اور ہم نے بکریاں ٹوٹ لیں، پیشتر اس کے کہ وہ تقسیم کی جائیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کمان پر سہارا لیتے ہوئے ہمارے پاس آئے اور کمان سے ہماری ہانڈیاں اُلٹادیں اور فرمایا: گوٹ کا مال ایسا ہی حرام ہے جیسے مردار۔مذکورہ بالا روا یتیں امام بخاری کی روایت کی مؤید ہیں اور ٹوٹ مار سے روکتی ہیں۔آخری روایت سے ظاہر ہے کہ غنیمت کا مال بھی جو جائز ہے، اگر ٹو ٹا جائے تو وہ بھی ٹوٹ کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تربیت میں یہاں تک احتیاط برتی کہ انہیں بھوک کی حالت میں بھی ایسا مال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ ناراضگی کا اظہار فرمایا۔يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا اَبْصَارَهُمُ : امام مسلم نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے جبکہ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفِ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهَا رُءُ وَسَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ۔مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الإيمان والرؤيا، ما ذكر فيما يطوى عليه المؤمن، جزء ۶ صفحہ ۱۶۷) یعنی مومن ہونے کی حالت میں کوئی شخص وہ مال بھی نہیں کو متا جو قابل قدر ہو۔جس کی طرف مسلمان اپنے سر اٹھائیں۔یعنی ایسا مال جو قیمتی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کو کھینچنے والا ہو۔ایسے مال کے غصب کرنے کی بھی ایمان اجازت نہیں دیتا، چہ جائیکہ معمولی معمولی چیزیں کوئی جائیں۔اشراف نفس کے بارے میں اسلام کی اعلی تعلیم کا ایک حوالہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں کتاب الزکوۃ باب ۵۰ روایت نمبر ۱۴۷۲ وغیرہ میں گزر چکا ہے۔جس شئے کے لئے نفس للچائے وہ انسان کے لئے مبارک نہیں ہوتی۔خواہش نفس کی پیروی روحانیت کے اعلیٰ مدارج کے حصول میں بڑی روک ہے۔صوفیائے کرام نے اشراف نفس کے مسئلہ کو بہت بڑی اہمیت دی ہے اور کلمہ لا اللهَ إِلَّا الله کے پہلے حصے کا یہی مفہوم لیا ہے کہ انسان ہوائے نفس سے کلی طور پر منقطع ہو جائے اور نفس کی خواہشوں سے کوئی حرکت سرزد نہ ہو بلکہ اپنی خواہشیں مشیت الہی کے تحت کر دی جائیں۔اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وو بت پرستی اور انسان پرستی سے پر ہیز تو ایک موٹی بات ہے۔ہندو جو حقائق اور معارف نہیں جانتا وہ بھی اب تو بتوں سے پر ہیز کرتا ہے۔کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا مفہوم اس پر ختم نہیں ہو جاتا کہ بتوں کی پوجا سے تم پر ہیز کرو بلکہ اس کے سوا اور بہت سے جھوٹے معبود ہیں اور اُن سب کا ترک کرنا لازمی امر ہے۔جیسا کہ انسان کا ہوا و ہوس ابو داؤد، کتاب الجهاد، باب في النهى عن النهي) (مصنف ابن ابي شيبة كتاب البيوع، باب من كره النهبة ونهى عنها)