صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 495
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۹۵ ٤٦- كتاب المظالم أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَضَی میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تھے کہ جب لوگ شارع عام سے متعلق آپس میں تَشَاجَرُوا فِي الطَّرِيقِ الْمِيْتَاءِ بِسَبْعَةِ اختلاف کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات ہاتھ أَذْرُع۔ چھوڑنے کا فیصلہ فرماتے ۔ تشريح : إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ الْمِيْنَاءِ وَهِيَ الرَّحْبَةُ: راستے کا حق یہ ہی ہے کہ مکان ا بھی بناتے وقت اتنی جگہ چھوڑ دی جائے کہ راستہ تنگ نہ ہو۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے بلکہ ان کا رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ اپنی جگہ میں سے کچھ نہ چھوڑیں اور دوسرے کی جگہ لے لیں۔ اس سے ان کی فطرت کا میلان ظاہر ہے جو سارے کردار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عنوان باب میں مسند عبد الرزاق کی روایت کا حوالہ دے کر راستے کی کم از کم چوڑائی کی طرف توجہ مبذول کی ہے کہ سات ہاتھ ہو۔ یعنی تقریباً چودہ پندرہ فٹ ۔ یہ چوڑائی گلی کی ہے۔ روایت بالا حضرت ابن عباس سے منقول ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : عَنِ النَّبِيِّ اللهِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ الْمِيْتَاءِ فَاجْعَلُوهَا سَبْعَةَ اخْرُع ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۴۷) یعنی اگر محلہ یا بستی کے لوگ شارع عام یا گزرگاہ کے بارے میں اختلاف کریں تو کم از کم سات ہاتھ یعنی چودہ پندرہ فٹ گزرگاہ رکھی جائے۔ الرَّحْبَةُ کے معنے ہیں وسیع اور الميناء کے معنی چوراہا بھی کئے گئے ہیں۔ جہاں چاروں طرف کے راستے کھلتے ہوں۔ علامہ طبری کی رائے میں مذکورہ بالا اندازہ کم از کم ہے اس سے زیادہ کی گنجائش ہو تو شارع عام زیادہ فراخ رکھی جائے۔ ( عمدة القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۴) آج کل کے حالات نقل و حرکت اس سے زیادہ وسعت کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر باشندگان میں سے کوئی شخص اس میں مزاحم ہو تو اس کا یہ فعل بھی مظالم میں شمار ہوگا کہ وہ گزرگاہ کا حق نظر انداز کرتا اور آمد ورفت میں تنگی کی وجہ سے جو مضر نتائج پیدا ہو سکتے ہیں ، ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ ایسا شخص شریعت اسلامیہ کی رو سے ظالم ہے اور قابل مواخذہ ۔ ذراع سے مراد بعض کے نزدیک متوسط قد و قامت والے آدمی کا ہاتھ کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے آخری سرے تک۔ اور بعض کے نزدیک پیمانہ تعمیر کی خاص اصطلاح ہے جو پچاس سے ستر سینٹی میٹر تک ہے۔ اس پیمانے کے اندازے سے اوپر ذراع کا حساب کیا گیا ہے۔ باب ٣٠ : النُّهْبَى بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ کوئی چیز بغیر مالک کی اجازت کے ٹوٹنا وَقَالَ عُبَادَةُ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى الله اور حضرت عبادہ بن صامت) نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ہم نہیں ٹوٹیں گے۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَّا نَنْتَهِبَ ۔